گلگت( ٹی این این)محکمہ اطلاعات گلگت بلتستان نے گلگت بلتستان میں سرکاری ملازمت کے ساتھ صحافت کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے نوٹفکیشن جاری کردیا۔تفصیلات کے مطابق محکمہ اطلاعات کی جانب سے گلگت بلتستان میں سرکاری ملازم صحافیوں کے حوالے سے مسلسل عوامی شکایت اور 3 مئی کو گلگت پریس کلب میں ہونے والے سمینار میں کچھ صحافیوں کی جانب سے اس مسلے پر تشویش کا اظہار کرنے کے بعد حکومت نے وزیر اعلیٰ کی ہدایات پر اُن کے خلاف ایکشن لینے کیلئے گلگت بلتستان کے تمام پریس کب سے سرکاری ملازم صحافیوں کی فہرست طلب کرلی ہے تاکہ ایسے عناصر کے خلاف قانونی طور پر کاروائی کو یقینی بنایا جاسکے۔
دوسری طرف سوشل میڈیا پر نوٹفکیشن وائرل ہوتے ہی لوگوں نے حکومت پر نکتہ چینی شروع کردی ہے۔ سوشل میڈیا فیس بُک ،ٹیوٹر اور واٹس ایپ صارفین کی جانب سے سوال اُٹھایا جارہا کہ کیا وزیر اس کام کا پہل اپنے دفتر سے کرنے کیلئے تیار ہیں کیونکہ اس وقت ترجمان حکومت گلگت بلتستان جو ایک طرح سے سرکاری ملازم ہے اور سرکاری خزانے سے تنخواہ وصول کرتے ہیں دوسری طرف گلگت بلتستان کے حوالے سے ایک نجی ٹی وی پر گلگت بلتستان کے حوالے سے پروگرام کی میزبانی بھی کرتے ہیں جو کہ صحافتی اقدار کی خلاف وزری ہے اور دوسرا وزیر اعلیٰ کا میڈیا کوارڈنیٹر بھی ایک طرح سے حکومت کا ملازم ہے مگر
اخبار ات میں روزانہ صرف حکومتی قصیدہ گوئی پر مبنی مضامین لکھتے ہیں جبکہ گلگت بلتستان کے اخبارات میں قومی ایشوز پر لکھنے والوں کو جگہ ہی نہیں ملتی۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس کے علاوہ حکومتی ملازمین نہ صرف خود سرکاری نوکری کرتے ہیں بلکہ اُن کے بھائی رشتہ دار میں سرکاری ملازمت کے ساتھ صحافت کے نام پر اخبارات میں حکومتی ترجمانی کرتے نظر آتا ہے۔
گلگت بلتستان میں سرکاری ملازم صحافیوں کے خلاف کریک ڈاون کا فیصلہ، عوام نے وزیر اعلیٰ کو مشکل میں ڈال دیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا