چلاس(ٹی این این)چلاس ہسپتال میں ڈاکٹروں کی شدید کمی ،مریض رُل کر رہ گئے ،گائنی کالوجسٹ،سکن سپیشلسٹ اور بے ہوشی کے ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے مریض سخت مشکلات اور ذہنی دباو کا شکار ہوکر رہ گئے ہیں ،ہسپتال میں سی ٹی سکین مشین خراب ہوئے دو ماہ گزر گئے لیکن اب تک مشین کی مرمت نہیں کی جاسکی،ہسپتال میں اہم اور ضروری بلڈ ٹیسٹ کی سہولیت بھی میسر نہیں ،ایکسرے مشین بھی بہتر رزلٹ نہیں دیکھا پارہی ہے ۔ان خیالات کا اظہار دیامر کے عوامی و سماجی حلقوں نے چلاس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ چلاس ہسپتال کا خدا حافظ ہے دور دراز علاقوں سے علاج کیلئے چلاس ہسپتال آنے والے مریض صحت کی سہولیات کے عدم دستیابی کی وجہ سے مایوس لوٹ رہے ہیں ،ہسپتال میں صفائی وستھرائی کا نظام بھی مایوس کن ہے ،ہسپتال کا عملہ ڈیوٹی دینے کے بجائے گھروں میں مزے لے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی کی طرف سے فراہم کردہ موبائل ہسپتال چلاس ہسپتال کے احاطے میں کھڑی زنگ آلود ہوچکی ہے ،لیکن اب تک موبائل ہسپتال کو نالہ جات لے جاکر مریضوں کا معائنہ تک نہیںکیا گیا ہے۔عوامی حلقوں نے چلاس ہسپتال کی بگڑتی ہوئی صورت حال بہتر بنانے کیلئے اعلی حکام بالخصوص وزیر اعلی سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ موبائل ہسپتال کو فنگشنل کرکے نالہ جات بھیجا جائے تاکہ مریضوں کا گھر کی دہلیز پر علاج و معالجہ ممکن ہوسکے اور چلاس ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی کو دور کرنے کیلئے احکامات صادر کیا جائے۔
چلاس ہسپتال میں مختلف امراض کے اسپشلسٹ کا شدید بحران،مریضوں کا سخت مشکلات کا سامنا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا