کھرمنگ( پ،ر)غندوس کھرمنگ میں 1960 میں بننے والے پرائمری سکول میں کلاسیں بڑھتے بڑھتے دس تک پہنچ گئی مگر کمرے 1960 والے وہی دو ہی ہیں۔ بچے زمین پر بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق مذکورہ سکول میں جدید طریقہ تعلیم ای-سی-ڈی بھی کی کلاسیں بھی چل رہی ہیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں ایسے ماڈل سکولز ہوں تو یقینا اگلے چن سالوں میں تعلیمی پسماندگی کے اندھیروں میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ سکول کی حالت زار دیکھ کر یہ کہنا غلط نہ ہو گاکہ غندوس کے عمائدین میں ہر پارٹی کے جو بڑے بڑے سرکردگان اور ایک سابق امیدوار ممبر اسمبلی ہیں ان سب نے اب تک ذاتی مفادات کے حصول کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے۔
محکمہ تعلیم کو چاہئے کہ اخباری بیانات میں تعلمی ترقی کی دنیا سے نکل کر اس طرح کے دور دراز سرحدی علاقوں کے تعلیمی مسائل پر توجہ دیں۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا