شگر(ٹی این این)نہ مشینری اور نہ ہی جدید آلات ،نیالی پڑی روڈ کی کشادگی کیلئے ٹھیکیدار کی جانب سے روایتی طریقے سے بلاسٹنگ کرکے روڈ کو کئی کئی گھنٹے بند رکھنا معمول بن گئے۔مسافروں کو پڑی میں سخت اذیت کا سامنا ہونے لگے۔تفصیلات کے مطابق شگر میں خطرناک موڑ کو ختم کرنے کی سکیم کے تحت کئی جگوں پر کام ہورہے ہیں ۔ جن میں ٹھیکیداروں کی جانب سے جدید آلات اور مشینری استعمال کرنے کے بجائے روایتی انداز میں بلاسٹنگ کررہے ہیں۔مسافرں نے میڈیا کو شکایات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹھیکیداروں کی جانب سے پیسے بچانے کیلئے روایتی انداز میں بلاسٹنگ کرتے ہوئے سڑکوں کو کئی کئی گھنٹوں بلاک رکھا جارہا ہے۔جبکہ ان کے پاس نہ ہی مطلوبہ مشینری موجود ہے اور نہ ہی بھاری آلات،متعلقہ مقامات پربھاری پتھروں کو ہٹانے کیلئے صرف چند مزدوروں کو تعینات کیا ہوا ہے ۔جوکہ ان بھاری بھر پتھروں کو ہٹانے میں کئی کئی گھنٹے لگاتے ہیں۔جس کی وجہ سے سڑک کے دونوں جانب کئی کئی گھنٹے مسافر جن میں بزرگ ،خواتین اور بچے شامل ہوتے ہیں خوار ہوتے ہیں جبکہ سکردو اور دیگر شہروں میں علاج اور ڈیوٹی پر جانے والے افراد وقت پر متعلقہ جگوں پر نہیں پہنچ پاتے۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعمیرات عامہ کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹھیکیداروں کو سڑک کی کشادگی کیلئے بلاسٹنگ والی جگوں پر بھاری پتھروں کو ہٹانے کیلئے ایکسکیویٹر اور دیگر بھاری آلات کے ذریعے کام کرنے کا پابند بنایا جائے۔ تاکہ لوگوں کو تکالیف کم سے کم ہو۔
نہ مشینری اور نہ ہی جدید آلات ،ضلع شگرنیالی پڑی کشادگی کیلئے ٹھیکیدار نےدیسی طریقہ اپنا لیا،عوام پریشان۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا