گلگت بلتستان کے صحافیوں نے محکمہ اطلاعات کے خلاف محاذ کھول دیا،نیب سے بڑا مطالبہ ۔

0 0

سکردو (ٹی این این) گلگت بلتستان میں صحافت کی آذادی پر ہمیشہ سے عوام اور سماجی حلقے سوال اُٹھاتے رہے ہیں۔خطے میں آذادی صحافت میں سرکاری اداروں کی مداخلت اور مضامین کی اشاعت کے حوالے سے اسکرینینگ سے آذاد صحافت کا دعویٰ فقط زبانی نظر آتا ہے یہی وجہ ہے کہ اخبارات میں ملک بھر کے اخبارات میں ایک دن پہلے شائع شدہ مضامین کوبغیر کسی معاوضے اور پیشگی اجازت کے چھاپ دی جاتی ہے جبکہ گلگت بلتستان کے ذیادہ تر قومی ایشوز پر لکھنے والے لکھاریوں نے آن لائن ویب سائٹس کا رُخ کیا ہے جہاں بغیر کسی مجبوریوں کے اخبارات چھپ جاتی ہے اور سوشل میڈیا پر قارئین کے تعدا د بھی ذیادہ مل جاتی ہے۔ اسی طرح گلگت بلتستان کے عامل صحافیوں میں وسائل کی کمی اور اخبارات مالکان کی جانب سے عدم مالی تعاون کی وجہ سے تحقیقاتی صحافت کا شدید فقدان ہے جن صحافیوں کو اخبارات کی جانب سے باقاعدہ تنخواہ ملتی ہے وہ صرف سرکاری خبروں پر توجہ دیتے ہیںتاکہ اشتہارات کی صورت میں سرکار کی جانب سے ادایئگیوں میں کوئی خلل نہ آئے۔
ایک اندازے کےاس وقت گلگت بلتستان کے ذیادہ تر اضلاع میں اخبارات کی سرکولیشن نہ ہونے کے برابر ہے لوگ سوشل میڈیا ااور آن لائن اخبارات کے حالات حاضرہ سے اگاہ رہتے ہیں وہیں۔ تعلیم یافتہ طبقے میں اخبارات پڑھنے کا رحجان ناقابل یقین طور پر کم ہوگیا ہے۔ضلع سکردو کے کئی اخبار فروشوں نے شکوہ کیا کہ اُن سے اخبار صرف سرکاری ملازمین اور دوکاندار خریدتے ہیں جبکہ کوئی پڑھا لکھا راہ چلتے
اخبار نہیں خریدتے بلکہ اُلٹا ہم سے مذاق کرکے پوچھتے ہیں کہ جھوٹ کی ہیڈ لائن کیا ہے؟۔ ایک اور اخبار فروش نے شکوہ کیا کہ ذیادہ تر لوگ چیک کرکے اخبار میں کوئی سرکاری اشتہار چھپی ہے تو اخبار خریدتے ہیں۔سکردو کے کئ عامل صحافیوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت صحافت زوال پذیرجبکہ اخبار مالکان کے دن بدل گئے ہیں۔اُنہوں پنڈی میں کوٹھیاں بنادی جو لوگ کل تک موٹر سائیکل استعمال کرتے تھے آج بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے نظر آتا ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں صحافت کا محور سرکاری اشتہارات کا حصول ہے جس سے نہ عامل صحافیوں کا کچھ بھلا ہو رہا ہے اور نہ ہی عوامی مسائل کی طرف توجہ دی جاتی ہے کیونکہ یہاں ہر ادارے میں مخصوص لوگ بیٹھے ہیں جو اخبارات پر نظر رکھتی ہے اگر کسی اخبار میں کسی بڑے افسر یا سیاست دان کے خلاف خبر لگ جائے تو اشتہار روک دی جاتی ہے۔
لیکن گزشتہ روز گلگت میں عالمی یوم صحافت کے سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے سکردو پریس کلب کے صدر قاسم بٹ نے خوفناک انکشاف کردیا۔ اُنکا کہنا تھا کہخطے میں سب سے مظلوم طبقہ صحافیوں کا ہوتا ہے اور پورا معاشرہ صحافیوں سے امیدیں لگا بیٹھا ہے حکومت ادارے اور عوام ایک غریب صحافی سے اتنے توقعات کیسے رکھتے ہیںکیونکہ معاشرتی برائیوں سے مقابلہ کرنے ہمارے پاس وسائل نہیں۔ اُنہوں مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے صحافی تحقیقاتی صحافت کیسے کریں کیونکہ یہاں معلومات کی رسائی ناممکن بنادیا گیا ہے۔اُنکا کہنا تھا کہخطے میں زرد صحافت کا اصلذمہ دار محکمہ اطلاعات گلگت بلتستان ہے جو محض اپنے کمیشن کے خاطر علاقے میں زرد صحافت کی حوصلہ افزائی کررہا ہے اور اشتہارات ایسے اخبارات کو دیئے جارہے ہیں جن کاخطے میں نہ تو کوئی رپورٹر موجود ہے اور نہ ہی اخبار کا اپنا کوئی وجود ہے۔ اُنہوں نے انکشاف کیا کہ محکمہ اطلاعات کے افسران اپنے کمیشن کے لئے ملک کے دیگر حصوں کے گمنام اخبارات کو لاکھوں روپے کے اشتہارات جاری کررہے ہیںمگر گلگت بلتستان کے علاقائی اخبارات اس پالیسی کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہیں جس کے باعث علاقائی اخبارات سے وابسطہ صحافیوں کا معاشی استحصال ہورہا ہے۔اُن کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر خوب پذائرائی مل رہا ہے سوشل میڈیا فیس بُک،ٹیوٹر کے صارفین نے قاسم بٹ کے انکشافات کو حقائق پر مبنی اور تلخ حقیقت قرار دیکر قومی احتساب بیورو سے محکمہ اطلاعات کے افسران سے پوچھ گچھ کرنے کا مطالبہ زور پکڑر رہا ہے۔
دوسری طرف آج نیشنل نیوز پیپرز سوسائٹیکے ہنگامی اجلا س میں صدر قاسم شاہ نے قاسم بٹ کے تاریخی خطاب کی بھرپور تائید کرتے ہوئے محکمہ اطلاعات میں بڑھتی ہوئی کرپشن، اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم بلخصوص ڈمی اور غیر معروف اخبارات کو بھاری کمیشن کے عوض اشتہارات دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔اُنہوں نے محکمہ اطلاعات میں مقامی اور وفاقی ڈمی اخبارات کو فوری اشتہارات بند کرنے اور گزشتہ چار سالوں کے دوران ادارے سے جاری ہونے والے اشتہارات کی تفصیلات فوری منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔اجلاس میں محکمہ اطلاعات میں بڑھتی ہوئی لوٹ مار کی روک تھام کے لیے قومی احتساب بیورو کو فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور محکمہ اطلاعات میں ڈیپورٹیشن پر لائے گئے افسران کو فوری طور پر واپس اپنے محکموں میں بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے اور عمل درآمد نہ ہونے پر احتجاج کی دھمکی دی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website