چلاس(ٹی این این)ضلع دیامر کے سب ڈویژن داریل کھنبری ڈوڈوشال کےپشتینی ملکیتی جنگلات پر گلگت بلتستان کے متوقع چیف جسٹس ارشاد حسین شاہ اور سیکرٹری جنگلات خیبرپختونخواہ کی ملی بھگت سے سٹے لینے اور جنگلات پر دعویٰ کے خلاف ضلع دیامر کے عوام گزشتہ کئی دنوں سے سراپا احتجاج ہیں۔ ضلع دیامر کے عوام نے اپنے مطالبات کی حل کیلئے شاہراقراقرم کو بھی ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دیا ہے ۔وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان بھی مسلم لیگ کے ممبران اسمبلی کے ساتھ آج عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے بسری چیک پوسٹ پر جاری دھرنے میں شریک ہوئے۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ جنگلات کا سبجیکٹ چونکہ ہمارے اختیار میں نہیں یہ وفاق کا سبجیکٹ ہے اور اگر وفاق نے س مسلے کو حل نہیں کیا تو اسلام آباد کی طرف عوام کو ساتھ لیکر لانگ مارچ کیا جائے گا۔اُنکا مزید کہنا تھا کہاگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عیدالفطر تک داریل کے جنگلات کا مسلہ ، کوہستان میں غیرقانونی ٹیکس وصولی ،تھور ہربن حدود تنازعہاور رائیکوٹ تا داسو سیکشن تک شاہراہ قراقرم مرمت نہ کرنے کی صورت میں وفاقی اور خیبر پختونخواہ حکومت کیخلاف وزیراعلیٰ کابینہ سمیت اسمبلی ممبران اور گلگت بلتستان کے عوام کے ہمراہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔
یاد رہے گلگت بلتستان کے چار اہم سبجیکٹ جنگلات،معدنیات،سیاحت اور پاور جو کہ خطے کیلئے ریڑھ کے ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن ان چاروں سبجیکٹ پر کسی بھی قسم کی قانون سازی کا گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کو اختیار نہیں بلکہ وفاق کے پاس اس حوالے سے فیصلہ سازی کے اختیار ہیں جسکا آج وزیر اعلیٰ نے برمُلا طور پر اظہار کیا ہے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا