سکردو(نامہ نگار) سدیارہ ہائی سکول کے طلبہ و طالبات نے اساتذہ کی کمی پر سدپارہ سے گاوں سے کمشنر افس سکردو تک بیس کلومیٹر پیدل لانگ مارچ کرلیا جس کی قیادت عوامی ایکشن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری و امام جامع مسجد سدپارہ اغا علی رضوی اور پی ٹی ائی کے رہنما منظور طوفان نے کیا اور کمشنر بلتستان کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد گرلز سکول سدپارہ میں 6 اساتذہ تعینات کرنے کا حکم نامہ جاری، کردیا کمشنر بلتستان اور ڈپٹی کمںشنر کے خصوصی دلچسپی سے معاملہ حل ہوگیا۔ ان خیالات کا اظہار حافظ کریم داد چغتائی اسسٹنٹ کمشنر سکردو نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سدپارہ کے عوام سکول میں اساتذہ کی کمی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ان کیساتھ مذاکرات کے بعد کمشنر بلتستان حمزہ سالک، ڈپٹی کمشنر سکردو نوید احمد کے خصوصی ہدایت پر محکمہ تعلیم کے ذمہ داران فوری طور پر 6 اساتذہ کو سدپارہ سکول میں تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جو فوری طور پر سدپارہ جوائین ہونگے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عوام کے ہر مسلئے کو ضلعی انتظامیہ سکردو افہام و تفہیم اور عوام کیساتھ باہمی گفت شنید سے حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو سڑکوں پر آنے کی بجائے انتظامیہ کے دفاتر میں آکر اپنے مسلئے بیان کرنا ہونگے ہم بھر پور طریقے سے عوام الناس کا ہر جائز مسلئہ حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی تعیناتی کے بعد سدپارہ کے عوام نے انتظامیہ کے حق میں شاندار نعرہ بازی کی اور انتظامیہ کے عمل کو خراج تحسین پیشں کیا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا