سکردو( پریس ریلیز)این ایچ اے اور ایف ڈبلیو او سکردو گلگت روڈ کا ڈیزائن آئے روز تبدیل کر رہی ہے۔ سب سے پہلے دو پلوں کو آر سی سی سے بیلے برج میں تبدیل کر کے عوام کو مایوس کیا تھا اور اب 20 ٹنلز، 42 کلومیٹر مسافت میں کمی کا دعویٰ جھوٹا اور بونجی سے شنگوس آٹھ کلو میٹر ٹنل بھی ہوائی فائرنگ ثابت ہو رہی ہے ۔اگر ڈیزئن اور معیار میںتبدیلی کا یہی سفر جاری رہا تو سکردو گلگت روڈ کی تعمیر کا مقصد ہی بے سود ہو جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار امید وار گلگت بلتستان یونائیٹڈ موئومنٹ کے چیئر مین منظور پروانہ نے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ایف ڈبلیو او کو معیار اور حفاظت کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق روڈ کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے ، اونچی اونچی دیواریں بنا کر بغیر کم پیکشن کے بھرائی کی جا رہی ہے جو کہ روڈ بننے کے ابتدائی سالوں میں ہی دریا برد ہو جائیں گی۔ میدانی جگہوں پر روڈ 50 فٹ اور پہاڑی موڑ پر 28 فٹ ، کچھ مقامات پر 33 اور کہیں44 فٹ کا بنایا جا رہا ہے ۔ اس طرح کا روڈ کا کام مکائو ڈیزائن دنیا میں کسی بھی جگہ نہیں ہوتا۔ واقعی میں یہ عجوبہ ہوگا ۔ میدانی جگہوں پر عوامی ملکیتی زمینوں کو نقصان پہنچا کر روڈ 50 فٹ کشادہ بنانے کا تاثر افسوس ناک ہے۔ گلگت سے سکردو تک روڈ کو ایک ہی چوڑائی کے ساتھ معیاری بنایا جائے۔
منظور پروانہ نے کہا کہ سکردو گلگت روڈ کو ناکام بنانے کی سازش ہو رہی ہے ، اگر ایسا نہیں ہے تو ڈیزائن بار بار تبدیل کر کے ٹنلز کو کیوں ختم کئے گئے ہیں،روڈ کی چوڑائی سکردو تا گلگت یکساں کیوں نہیں اور پہاڑ کاٹنے کے بجائے دریا کی طرف اونچی اونچی دیواریں کیوں بنائی جا رہی ہے، ۔ سابق ڈی جی ایف ڈبلیو او جنرل افضل کے عوامی اجتماع اور عمائدین سے کئے گئے 20 ٹنل اور 42کلومیٹر مسافت میں کمی کے وعدے اور اعلانات کہاں ہیں۔ سکردو گلگت روڈ پر عوامی منتخب نمائندوں اور عوام کو شدید تحفظات ہیں ۔ عوامی تحفظات و خدشات کو دور کرنے کے لئے عملی اقدامات اور روڈ کو اولین ڈیزائن اور معیار کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا