گلگت(ٹی این این ) گزشتہ روز سکردو میں پانی کیلئے احتجاج کرنے والی خواتین کی وکالت اور ترجمانی کرنے پر کمشنر بلتستان میں آصف ناجی ایڈوکیٹ سمیت دیگر دو وکلا پر مقدمہ درج کرلیا تھا جبکہ آصف ناجی پر خصوصی طور پر دہشتگردی ایکٹ لگا کر گلگت منتقل کیا جنہیں آج کورٹ میں پیش کرنے سے پہلے گلگت کے وکلاء برادری سے شدید احتجاج کیا اور کمشنر بلتستان کے خلاف شدید نعرے لگائے، وکلاء کا کہنا تھا کہ پانی مانگنے کے جرم میں دہشتگردی ایکٹ لگانا گلگت بلتستان میں بیورکریسی کی کھلی دہشتگردی ہے جو اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکامی پرعوام کو ڈرا دھمکا کر خاموش کرانا چاہتا ہے جو کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور متنازعہ خطے میں بیورکریسی کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔
آصف ناجی ایڈوکیٹ کو عدالت میں پیش کرنے سے گلگت کے وکلاء نے آئی جی گلگت بلتستان کو الٹی میٹم دیکر آصف ناجی کے اوپر سے دہشتگردی ایکٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا جنہیں بعد میں اے ٹی اے کورٹ میں پیش کیا جہاں اے ٹی اے کورٹ نے آصف ناجی کے خلاف اے ٹی اے حذف کرکے کیس کو سیشن کورٹ سکردو منتقل کرنے کا حکم دیا۔ آصف ناجی نے کورٹ میں اپنے وکلاء کو بتایا کہ پولیس نے اُن پر بدترین تشدد کیا اور اُنہیں ڈرا دھمکایا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا