لاہور( ٹی این این ۔محمد کامران) لاہور میں ایک اور بلتی سٹوڈنٹ بے ہیمانہ تشدد کی زد میں۔گزشتہ شب پیش آنے والے اس واقعے نے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ میں ایک بار پھر اضطراب کی کیفیت پیدا کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات کو ایک نویں جماعت کے طالب علم کو رات اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ گھر سے روٹیاں لینے کے لئے گیا اور کچھ اوباش لڑکوں نے پہلے اس کی شناخت پوچھی اور جب اس نے کہا کہ وہ بلتی ہے تو بلاوجہ تشدد کا نشانہ بنایا۔اس حوالے سے جب پولیس سے رابطہ کیا تو پنجاب پولیس اپنی روائتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کو پکڑنے کے بجائے دو اور بلتی لڑکوں کو تھانے میں بند کر کے ان پر مقدمہ بنانے کی دھمکی دی اور ملزمان ہمیشہ کی طرح قانون کی گرفت سے آزاد پھرتےہے۔ لاہور میں مقیم طلبہ نے اس حوالے سے اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور وزیر اعلی پنجاب سے فوری نوٹس اور کارروائی کا مطالبہ کیا یاد رہے گزشتہ سال دلاور عباس لاہور میں مقامی لوگوں کے بے ہیمانہ تشدد سے شہید ہوا تھا۔
گلگت بلتستان کے طالب علم کو شناخت پوچھ کر لاہور میں اوباش لڑکوں نے نشانہ بنا دیا
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا