گلگت(ٹی این این) قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں لکچررز کی بھرتیوں کے طریقہ کار گلگت بلتستان کے ایم فل اسکالر نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔گلگت بلتستان کے ایم فل اسکالر کا کہنا ہے کہ قراقرم یونیورسٹی کے قیام سے لیکر اب تک یونیورسٹی میں ریگولر فیکلٹی کیلئے خالی آسامیوں کی اشتہار تو دی جاتی ہے۔ لیکن اُس اشتہار کے چند ہی دنوں بعد ہی وزیٹینگ لیکچرر کی جانب سے عدالت میں رٹ دائر کی جاتی ہے اور مشتہر عہدوں کیلئے مُک مکا کرکے میرٹ کی بنیاد پر اپلائی کرنے والوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے کئ ماہ بعد کچھ افراد کو انٹرویو کیلئے کال کی جاتی ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ اپس وقت بھی اگر اُمیدوار گلگت بلتستان میں نہیں تو موقع پاکر وزیٹینگ شب افراد کو بھرتی کی جاتی ہے۔ ایم فل اسکالر کا کہنا تھا کہ اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ ایم فل اسکالر اس اُمید سے اپلائی کرتے ہیں کہ شائد ایک مہینے کے اندر کال آجائے لیکن ایسا نہیں ہوتا بلکہ کم از کم چھے سے سات ماہ بعد کسی نہ کسی کو کال آجاتی ہے اُس وقت اگر اُمیدوار بوجہ روزگار کسی دوسرے شہر میں گیا ہوا ہے تو اُنکو بغیر کسی مہلت دئے درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ گلگت بلتستان کے کئی ایم اسکالر نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ گلگت بلتستان کے ایم فل اسکالر کے ساتھ یہ ذیادہ ذیادتی شروع دن سے ہورا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اُنکا کہنا تھا گزشتہ ماہ مشتہر ہونے والے آسامیوں کیلئے اپلائی کرنے والوں نے جب قراقر م یونیورسٹی کےہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کیا تو اُنہیں بتایا کہ ان تمام پوسٹوں کے حوالے سے یونیورسٹی میں پہلے سے کام کرنے والے اساتذہ نے کورٹ میں رٹ دائر کی ہے لہذا فلحال یہ معاملہ زیر لتواء ہے کیونکہ جب تک عدالت سے اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں آتے تو یونیورسٹی فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں۔ ایم فل اسکالرز کا کہنا ہے کہ جب اس حوالے سے اشتہار دینے کے بعد ہر بار عدالت جاکر اندر کے لوگوں کو بھرتی کرانا ہے تو خالی آسامیوں کیلئے اشتہار ہی نہیں دینا چاہئے کیونکہ اس سے ایم فل اسکالر کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور دوسرا اس قسم کے فیک اشتہارات سے سرکاری خزانے کو بھی نقصان پونچ رہا ہے۔ ایم فل اسکالرز کا کہنا ہے کہ یہ ایک میگا کرپشن ہے اور محکمہ نیب سمیت ہائر ایجوکیشن پاکستان اور گلگت بلتستان کی حکومت کو اس سنگین مسلے کے حوالے سے چھان بین کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ قراقرم یونیورسٹی اس وقت گلگت بلتستان کے ایم فل اسکالر کو بیوقف بنا رہا ہے ۔ اُنکا کہنا تھا کہ جو لوگ اس عہدے کیلئے میرٹ پر نہیں اُترتے وہ چند ماہ کی خدمات کو بنیاد پر بنا پر عدالت سے رجوع کرکے نوکریاں حاصل کرتے ہیں جو کہ ایم فل اسکالر کے ساتھ ذیادتی ہے جسکا ازالہ ہونا ضروری ہے۔
قراقرم یونیورسٹی میں لیکچررز کی بھرتیوں میں میرٹ کی پامالی اوربے ضابطگیوں کا انکشاف۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا