ضلع دیامر میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کیلئے محکمہ تعلیم کاکردار، ناقابل یقین انکشاف۔

0 0

چلاس(محمدقاسم)دیامر میں فی میل ایجوکیشن کے فروغ کے حوالے سے محکمہ ایجوکیشن گلگت بلتستان کی دعوں کی قلعی کھل گئی۔ڈھائی لاکھ کی آبادی پہ مشتمل ضلع میں ایک گرلز ہائی سکول تین مڈل سکول 8 پرائمری سکول موجود ہیں۔جب کہ چلاس شہر کے اندر ایک بھی پرائمری سکول موجود نہیں۔ضلع بھر میں موجود ہوم سکول کے نام پہ وجود میں آنے والی فی میل سکول کو صرف ایک کمرے پہ محدود ہونے کے علاوہ تعلیمی سہولیات بھی ناکافی ہیں۔جب کہ دوسری جانب محکمہ ایجوکیشن گلگت بلتستان کا دعوی یہ کہ دیامر میں فی میل ایجوکیشن کے فروغ کے لئے ہنگامی بنیادوں پہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ مگر زیر تعمیر گرلز سکولوں میں کام کی رفتار سست روی کا شکار ہے۔چلاس شہر کی آبادی لاکھوں میں ہے مگر شہر میں صرف ایک گرلز ہائی سکول اور گرلز مڈل سکول رونئ کے علاوہ دیگر گنجان آباد محلوں میں فی میل پرائمری سکول کا وجود تک نہیں ہے۔ جب کہ سیپ سکول بھی بے آثار قدیمہ کا منظر پیش کر رہی ہیں۔عوامی حلقوں نے حکومت گلگت بلتستان اور محکمہ تعلیمات گلگت بلتستان سے مطابعہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیامر میں فی میل ایجوکیشن تیزی سے فروغ پا رہا ہے مگر تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کے لئے حکومتی سطح پہ کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔حکومت دیامر میں تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کے لئے گرلز سکولوں میں تعلیمی ضروریات پورا کرنے کے کئے ہنگامی بنیادوں پر کردار ادا کرے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website