اسلام آباد( ٹی این این )حکومت نے غیرملکی سیاحوں کے ویزے کیلئے این او سی کی شرط ختم کردی ہے۔ جس کے مطابق سیاح گلگت بلتستان اور آذاد کشمیرمیں لائن آف کنٹرول سے صرف پانچ میل کے فاصلے تک سیاحت کی غرض سے جاسکتے ہیں لیکن دوسری طرف بلتستان میں سیاحت کے حوالے سے مشہور ضلع گانچھے میں کوہ پیماوں کا علاقہ اور ہوشے میں جانے کیلئے این او سی لازمی قرار دی ہوئی ہے۔ گزشتہ روز بلتستان کے کچھ صحافی کو خپلو پولیس نے یہ کہہ کر روک دیا کہ خپلو کے کسی بھی دور افتادہ مقام پر جانے کیلئے گانچھے پولیس سے این او سی لینا لازمی ہے۔
عوامی حلقوں میں اس حوالے سے شدید تشویش پایا جاتا ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے سیاحت کی فروغ کیلئے آسانیاں پیدا کررہا ہے اور اسی تناظر میں وزارت داخلہ کی جانب سے خصوصی سمری جاری ہے جبکہ دوسری طرف بلتستان پولیس کی اپنی الگ حاکمیت کے تحت ریاست کے اندر ریاست بنا وزارت داخلہ کے نوٹفکشن کو نظر انداز کررہا ہے ۔ عوامی حلقوں نے
حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ جو نوٹفکیشن وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہوئی ہے اُس بنیاد پر بلتستان کے چاروں اضلاع میں سیاح کو جانے کی اجازت ملنی چاہئے۔ دوسری طرف ضلع کھرمنگ سے بھی یہی اطلاع ہے کہ کھرمنگ انتظامیہ نے اپنی اپنا الگ قانون بنا کر سیاحوں کو صرف خاموش آبشار تک جانے دیا جائے گا جو کہ وزارت داخلہ کے نوٹفکیشن کی کھلی خلاف وزری ہے۔ عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمٰن اور چیف سکرٹیری گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں میں سیاح کو بلتستان جانے سےآنے سے روکنے کیلئے ہر قسم کے ہتکنڈے استعمال کر رہا لہذا اس حوالے سے نوٹس لیکر وزارت داخلہ کی جانب جاری مراسلے پر پابندی کو یقینی بنائیں۔
بلتستان ریجن میں سیاحت کے خلاف گہری سازش کا انکشاف۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا