گلگت(پ-ر)گلگت قائد حزب اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی کیپٹن(ر) محمد شفیع نے کہا ہے سابق جسٹس سپریم ایلیٹ کورٹ جاوید اقبال نے جاتے جاتے حفیظ الرحمن جعلی ڈگری کیس کو اکیلئے ہی فیصلہ سناتے ہوئے کیس کو خارج کر کے عدالتوں کو بھی متنازع بنا دیا۔ ان کے اس فیصلے کی وجہ سے عوام کا عدالتوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے. چیف جسٹس نے جب فیصلہ کرنا تھا تب موصوف اچانک لاپتہ ہوئے اور ڈی بی پورا نہ ہونے پر کیس کی سماعت کو ملتوی کر دیا گیا تھا. اگر سپریم اپیلیٹ کورٹ کو اس قسم کے فیصلوں کے لیے ہی بنایا گیا ہے تو ایسی عدالتیں گلگت بلتستان کے عوام کو منظور نہیں فورا سپریم اپیلیٹ کورٹ کو ختم کیا جائے. انہوں نے ان خیالات کا اظہار میڈیا کے لئے جاری اپنے ایک بیان میں کیا ہے. انہوں نے کہا ہے مرحوم جسٹس شہباز کے وفات ہوئے تقریبا 2 سال کا عرصہ گزر گیا ہے صوبائی حکومت نے فرقہ واریت کی بنیاد پر جسٹس کی خالی آسامی کو پر نہیں کیا. اب دوبارہ اپنے کسی چاچے مامے کو جسٹس لگوانے کے ہتکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں. اس بار ہم خاموش نہیں رہینگے.
وزیر اعلیٰ جعلی ڈگری کیس،اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی عدالت پر برہم۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا