نگر ( بیورو رپورٹ) ٹریکٹر مالکان اور ڈرائیوروںنے سرکاری نرخ نامے کے پرخچے اڑا دیئے ،کھیتوں میں ہل چلانے او ر کاشت کرنے کے لئے سرکاری طور پر مقررہ نرخوں سے کم از کم 10 جبکہ زیادہ سے زیادہ 15وپے اضافی لینے لگے۔ عوام پریشان ،عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فور ی طور پر ان ٹریکٹڑ مالکان یا ڈرائیوروں کو مقررہ نرخوں پر کام کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر سرکاری نرخ نامے عوام کو دکھا کر عوام اور ٹریکٹر مالکان میں لڑائی جھگڑے یا تو تکار کی نوبت سے بچایا جائے۔ تفصیلات کے مطابق عوامی مسلسل شکایات اور ٹریکٹر مالکان اور ڈرائیوروں کی من مانیاں ختم کرانے کے لئے ضلعی انتظامیہ نے ہل چلانے کے نرخ فی منٹ 26 روپے فی منٹ مقرر کئے ہوئے ہیں جبکہ ٹریکٹر ڈرائیورز کہیں کسی سے36 تو کسی سے چالیس روپے فی منٹ کے حساب کے لے رہے ہیں ۔ضلع انتظامیہ اس بارے میں کچھ کرنے سے قاصر دکھائی دے رہی ہے کیوں کہ شائد عوا لناس کی شکایات کا انتظار رہتا ہے ۔ جبکہ عوامی حلقوں نے میڈیاء کے زریعے اس خبر کو انتظامیہ تک پہنچانے کے لئے میڈیاء سے رابطہ کیا ہے۔ بلاشبہ ضلعی انتظامیہ کا بر وقت نرخوں کا تعین ایک بہترین طریقہ ہے لیکن اس پر عملدرآمد کرانے کے لئے اقدامات نہ کرنے سے اس نرخنامے کو کوئی بھی فائدہ عوام کو نہیں پہنچ پا رہا
ضلع نگر میں ہل چلانے کا موسم شروع ہوتے ہی ٹریکٹر مافیا بے لگام ہوگیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا