تھر(ویب ڈیسک/ٹی این این)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میرا اقتدار میں آنے کا سب سے بڑا مقصد پاکستان کے عوام کو غربت سے نکالنے کی کوشش کرنا ہے۔ تھر میں صحت کارڈ کی تقسیم کے حوالے سے منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چھاچھروں کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور الیکشن کے بعد پاکستان میں یہ میرا پہلا جلسہ ہے۔ یہاں آنے کی پہلی وجہ یہ ہے کہ تھرپرکار پورے پاکستان سب سے پسماندہ علاقہ ہے اور یہ سب سے پیچھے رہ چکا ہے، یہاں کے 75 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں اور گزشتہ 3 سے 4 سال میں ہزاروں بچے خوراک اور بھوک کی کمی کی وجہ سے مرگئے ہیں۔ اقتدار میں آنے کا سب سے بڑا مقصد پاکستان کے عوام کو غربت سے نکالنے کی کوشش کرنا ہے کیونکہ تھرپارکر میں سب سے زیادہ غربت ہے، اس لیے میں نے یہاں آنے کا فیصلہ کیا۔ 18ویں ترمیم پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد تمام اختیار صوبے کے پاس چلے گئے ہیں لیکن یہ صحت کارڈ ایک لاکھ 22 ہزار گھرانوں کو ملے گا اور ہم یہاں کے عوام کو سب سہولت پہنچائیں گے۔ انہوں نے تھرپارکر میں 2 موبائل ہسپتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جون، جولائی تک یہ ہسپتال یہاں پہنچ جائیں گے اور اس کے علاوہ 4 ایمبولنسز بھی فراہم کی جائے گی۔ تھر سے نکلنے والا کوئلہ تھرپارکر، سندھ اور پورے پاکستان کی تقدید بدل دے گا لیکن ہماری کوشش ہے کہ جو مادنیات جہاں سے نکلے گی وہاں کی عوام کو پہلی ترجیح دی جائے گی۔ اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے تھرپارکر کے لیے فوری طور پر 100 آر او پلانٹ کا اعلان کیا اور کہا کہ مزید ضرورت پڑی تو وہ بھی فراہم کریں گے۔ اس علاقے میں ہندو کی بڑی آبادی ہے، ہماری حکومت ہندو کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستان میں جو بھی اقلیت ہے ان کے برابر کے حقوق ہوں گے اور ہم کسی قسم کی تفریق نہیں ہونے دیں گے۔ نفرت کی سیاست سے کراچی میں تباہی کی گئی، اگر آج وہاں نفرت کی سیاست نہیں ہوتی تو وہ آج دبئی کا مقابلہ کررہا ہوتا، وہاں ایک آدمی نے اپنے اقتدار کے لیے نفرت پھیلائی اور تشدد کیا۔ بدقسمتی سے نریندر مودی کی بھی یہی سیاست ہے کہ نفرت پھیلائو، جب ایک لیڈر نفرت پیدا کرتا ہے تو کارکنان بھی وہی کرتے ہیں، یہ انسانیت کے خلاف ہے، یہ حیوانوں کا نظام ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت مکمل طور پر ہندو مذہب کے لوگوں کے ساتھ ہے ہم ہندوئوں پر کسی قسم کا کوئی ظلم نہیں ہونے دیں گے۔ نریندر مودی کی سیاست انسانوں کو تقسیم کرنا اور نفرتیں پھیلانا ہے اس لیے پلوامہ کے بعد کشمیریوں کے ساتھ ظلم کیا اور مشتعل ہجوم نے مسلمانوں پر تشدد کیا، الیکشن میں کامیابی کے لیے نریندر مودی نے پاکستان کیخلاف جنگ کا ماحول بنایا، ہم نے بار بار واضح کیا کہ جنگ نہیں چاہتے ہم امن چاہتے ہیں اس لیے بھارتی پائلٹ کو رہا کیا، کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ اب چاہے بھارت ہو یا کوئی سپر پاور، میں اور قوم آخری گیند تک اپنی آزادی کےلیے لڑیں گے، فوج اور عوام دونوں تیار ہیں، بھارت اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ کچھ کیا تو جوابی کارروائی نہیں ہوگی ، تمام سیاسی جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کسی مسلح گروہ یا کالعدم تنظیموں کو کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جب سے ہماری حکومت آئی تو ہم نے اس پر معاملے پر کام کیا، اس کا صرف مقصد پاکستان کی بہتری ہے، پاکستان کی زمین کو کسی قسم کی دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
بھارت ہو یا کوئی سپر پاور، قوم آخری گیند تک اپنی آزادی کیلئےلڑیں گے، فوج اور عوام دونوں تیار ہیں۔ وزیر اعظم
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا