سکردو(ٹی این این)پاکستان تحریک انساف کے سینیر رکن سید محمد عباس کاظمی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کے صوبائی عہدہ داروں کا موجودہ طریق انتخاب یعنی عہدوں کے خواہشمند افراد سے درخواستیں لے کر کسی کو مقرر کرنا انتہائی ناقص ہے اور یہ طریق کار مستقبل میں پارٹی کے لئے نقصان کا سبب بنے گا۔عہدوں اور کرسی کی خواہش کس کو نہیں ہوتی لیکن کارکردگی اور میرٹ کو مدنظر نہ رکھتے ہوے خواہشمند افراد کی درخواستوں میں اس چند افراد کا چناؤ کرنا ایک انتہائی احمقانہ عمل ہے جب کہ تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹیریٹ کے سینر دفتری اہلکار نہ ہی گلگت بلتستان کے حالات سے واقف ہیں اور نہ یہ جانتے ہیں کہ وہاں کس کی کیا حیثیت ہے اور ان کا ماضی کیسا رہا ہے۔موجودہ طریق کار ایک انوکھا ڈرامہ ہے ۔عباس کاظمی نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ جو طریق کاراس وقت اختیار کیا جارہا ہے وہ پوری طرح چیرمین عمران خان صاحب کی نوٹس میں ہے یا ان کی ہدایات پر اس طریق کار کو اختیار کیا جارہا ہے ۔ پچھلے الیکشن میں بھی جی بی قانون ساز اسمبلی کے لئے بھی ٹکٹیں ریوڑیوں کی طرح بانٹی گئیں جس کی وجہ سے پورے جی بی میں پارٹی کو بد ترین شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ صرف ضلع غذر کے راجہ جہاں زیب کامیاب ہوے۔ان کو بھی ووٹ پارٹی کی وجہ سے نہیں بلکہ اچھے کردار عوام کی سماجی خدمات اور خاندانی پس منظر کی وجہ سے دئے گئے ۔ اگرتحریک انصاف کے مرکزی قائدین کا گلگت بلتستان کے عہدوں اور انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کا یہی احمقانہ طریق رہا تو جی بی میں پارٹی کے زیادہ ممبرکامیاب نہیں ہونگے اور انہیں یقیناً اپوزیشن میں بیٹھنا پڑے گا اور جی بی میں عمران خان صاحب جو تبدیلی لانا چاہتے ہیں وہ ممکن نہیں ہوسکے گا جس کی وجہ سے جی بی مزید کرپشن ‘ اقتصادی نا انصافی اور اختلافات و فسادات کا شکار رہے گی ۔ آیندہ قانون ساز اسمبلی میں زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے مرکزی قائدین کو چاہیے کہ وہ چند افراد کی ذاتی خواہش پر عہدے نہ بانٹیں بلکہ وہاں کے معاشرہ اور پارٹی میں جو اچھے کردار ‘ اچھی صلاحیت کے حامل افرادہیں اورجوآ ئے دن صرف ا قتداراور مالی مفاد کے لئے پارٹیاں نہیں بدلتے ہوں ان کو pick کرکے عوام کے اندر اگلے الیکشن تک پارٹی کو ایک عوامی اور انقلابی پارٹی بنانے کی ذمہ داری ڈال دیں۔پھر کہیں جا کر جی بی میں پاکستان تحریک انصاف کو ایک قابل ذکرکامیابی مل سکتی ہے ۔مرکزی قائدین کو یہ زہن میں رکھنی چاہیے کہ کہ زمینی حقائق اور ہوتے ہیں اور جی بی کے چند افراد کا اسلام آباد میں ڈیرے لگا کر بڑے بڑے دعویٰ کرنا اور ہوتا ہے ۔عباس کاظمی نے واضح کیا کہ نہ تو وہ ان درخواست دہندوں میں شامل ہے اور نہ وہ پارٹی سیٹ اپ میں کسی عہدہ کا امیدوار ہے ۔لیکن پارٹی کو موجودہ طریق کار سے جو شدید نقصان ہوگا اس کا بہت افسوس ضرور ہے ۔کیونکہ تحریک انصاف کو جی بی کا میدان بالکل کھلا نہیں مل رہا ہے ۔وہاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی پوزیشن اتنی کمزور نہیں اور عین ممکن ہے کہ تحریک انصاف کو الیکشن میں شکست دینے کے لئے دونوں پارٹی متحد ہوکرمیدان میںآئیں۔ عباس کاظمی جناب جناب عمران خان صاحب سے امید ظاہر کی ہے کہ وہ جی بی میں اپنی پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان سے بچانے کے لئے موجودہ طریق کار کو منسوخ کرکے اپنی پسند سے ایک اہل شخص کو گلگت بلتستان کی صدارت پر تعین کریں اور باقی عہدے ان کی صوابدید پرچھوڑیں ۔چونکہ چیر مین صاحب کا مقرر کردہ یقیناً ایک با صلاحیٰت شخص ہونے کے ساتھ جی بی کے تمام حالات اور سیاسی کارکنوں کو ذاتی طور پر جانتاہے لہذا وہ جی بی میں پارٹی کے مناسب ترین افراد کو مناسب عہدوں پر مقرر کرکے ان سے بھرپور کام لیں گا ۔ اگر چیر مین صاحب نے اس طریق کار کو اپنایا تو یہ بات یقینی ہے کہ آنے والے اسمبلی کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف بڑی اکثریت سے کامیاب ہوگی ۔
گلگت بلتستان کیلئےپی ٹی آئی عہدہ داروں کا طریقہ انتخاب پر سوال اُٹھ گیا،وزیر اعظم سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا