چلاس (بیورورپورٹ)کے پی این بیورو آفس چلاس میں بانی و چیف ایڈیٹر راجہ حسین خان مقپون مرحوم کی ساتویں برسی کے موقع پر ایک دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں دیامر پریس کلب کے اراکین اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنماوں نے شرکت کی۔دعائیہ تقریب کے بعد راجہ حسین خان مقپون مرحوم کی ایصال و ثواب اور بلند درجات کیلئے خصوصی دعا اور فاتحہ خوانی بھی کی گئی اور صحافتی میدان میں مرحوم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے جزل سیکریٹری مختار حسین نے کہا کہ راجہ حسین خان مقپون مذاحمتی صحافت کے علمبردار تھے ،مرحوم نے ہمیشہ حق اور سچ کو اُجاگر کرنے کی کوشیش کی تھی ۔دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی آفتاب عالم نے کہا کہ راجہ حسین خان مقپون نے مشکل وقت میں گلگت بلتستان کی مظلوم عوام کی آواز کو ایوانوں تک پہنچانے کیلئے کے ٹو کی شکل میں ایک پلیٹ فارم مہیا کیا ،مرحوم کی صحافتی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ۔دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی عمرفاروق فاروقی نے کہا کہ راجہ حسین خان مقپون گلگت بلتستان کی پہچان اور توانا آواز تھے،مرحوم نے مختصر وقت میں گلگت بلتستان کی صحافت کو نئی جہد دی اور آزادی صحافت کیلئے مرحوم کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدرمولانا سجاء الحق ،رحمان اللہ،عطئع اللہ،صدام حسین ،حق نواز دیگر نے راجہ حسین خان مقپون کی صحافت کیلئے اُٹھائے جانے والی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ۔داریل میں نجی سکول کے اندر راجہ حسین خان مقپون کی ساتویں برسی کے موقع پر دعائیہ تقریب منعقد ہوئی ،تقریب میں سکول کی بچوں اور معززین علاقہ نے شرکت کی اس موقع پر راجہ حسین خان مقپون کی ایصال و ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ،قبل ازیں داریل میڈیا سینٹر میں بھی راجہ حسین خان مقپون مرحوم کی ساتویں برسی پر فاتحہ خوانی کی گئی ،اس موقع پر سینئر صحافی امتیاز ،رحمت حسین،سلیم اللہ و دیگر نے بانی و چیف ایڈیٹر راجہ حسین خان مقپون مرحوم کی خدمات پر روشنی ڈالی۔تانگیر میں سینئر صحافی عبدالسلام نے راجہ حسین خان مقپون کی ساتویں برسی کے موقع پر تعزیاتی ریفرنس کا انعقاد کیا ،تعزیاتی ریفرنس میں معززین علاقہ نے شرکت کی ۔اس موقع پر سینئر صحافی عبدالسلام نے مرحوم کی ایصال و ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی اور مرحوم کی بلند درجات کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا