اسلام آباد(ٹی این این) گلگت بلتستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کرنے اور آئینی حقوق کے مسئلے پر متفقہ بیانیہ تیار کرنے کیلئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔میڈیا ذرائع کے مطابق اس کانفرنس میں گلگت بلتستان کے تمام سیاسی،مذہبی جماعتوں کے قائدین شرکت کیلئے دعوت دیں۔ دوسری طرف قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کپٹن شفیع خان نے حکومت کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب حقوق کے معاملے میں جو بھی بات ہوگا اُس پرعوام کو پہلے اعتماد لیاجانا ضروری ہے اُس کے بغیر کوئی بات نہیں ہوگا۔
سوشل میڈیا پر حکومتی اس اقدام کو ڈھونک قرار دیا جارہا ہے، سوشل میڈیا فیس بُک اور ٹیوٹر صارفین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے اور تنازعہ کشمیر کے حوالے سے مسائل اور ریاستی پالیسی مکمل طور پر واضح ہونے کے باوجود اب مزید عوام کو بیوقف نہیں بنانا چاہئے، مختلف واٹس ایپ،ٹیوٹر گروپس اور فیس بُک پر صارفین کی جانب سے کہا جارہا ہے گلگت بلتستان آذاد کشمیر اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کی طرح متنازعہ ہونے کے باوجود گزشتہ ہفتے سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف روزی روکنے کیلئے متحدہ اپوزیشن کے ممبران کپٹن شفیع،نواز خان ناجی اور جاوید حسین کی طرف سے پیش کردہ سمری کو مسلم لیگ ن اور مجلس وحدت المسلمین کے ممبران اسمبلی کی جانب سے مخالفت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ گلگت بلتستان کے عوامی نمائندوں حقوق کے معاملے میں آج تک صرف سیاسی پوائنٹ اسکورینگ اور اخباری بیانات دیکر عوام کو بیوقف بنا رہاہے۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کہا جارہا ہے جب تک گلگت بلتستان کو ریاست پاکستان کی قومی پالیسی اور اقوام متحدہ کے قرادادوں کو سامنے رکھ کرحقوق دلانے کی بات نہیں کرتے صوبے کے نام پر اور حقوق دلانے کے نام پر مختلف مذہبی جماعتوں اور سیاسی پارٹیوں کی جانب سے کانفرنس سوائے عوام کو کنفیوز کرنے کے کچھ حاصل نہیں ہوگا، سوشل میڈیا پر مختلف طلبہ تنظیموں کے آفیشل فیسبُک پیجز سے بھی مسلسل مطالبہ کیا جارہا ہے کہ حقوق دلانے سے پہلے گلگت بلتستان کے عوامی نمائندے اپنے مفادات کی سیاست سے نکل کر مسلہ کشمیر اور اس حوالے سے ریاستی پالیسی کا مطالعہ کریں کیونکہ ریاست پاکستان کا ہمیشہ سے موقف ہے کہ گلگت بلتستان تنازعہ کشمیر کی اہم اکائی اور ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے لہذا رائے شماری سے پہلے اس خطے کو آئین میں شامل کرنے سے پاکستان کیلئے بین الاقوامی سطح پر مسائل پیدا ہوسکتا ہے اور بھارت موقع پا کر ستر سالوں سے آذادی کی جنگ میں مصروف مقبوضہ کشمیر پر مکمل طور پر قبضہ کرسکتا ہے۔سوشل میڈیا پر مسلسل مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اگر گلگت بلتستان کے عوامی نمائندے واقعی میں حقوق چاہتے ہیں تو اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق حقوق کا مطالبہ کریں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ ن آل پارٹیز کانفرنس میں کیا نیا مطالبہ سامنے لاتا ہے ۔
مسلم لیگ ن کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کا فیصلہ، وقت سے پہلے شدید تنقید کی ذد میں۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا