شگر(پ ر) برالدو یوتھ فورم کے صدر علی خان نوری نے کہا ہے کہ پرائمری سکول سیدرکا پی سی فور 14سال گزرنے کے بائوجود منظور نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے اسکولز کی آڈر کے بجائے موجودہ اسکولز کے نظام کو ٹھیک کیا جائے ۔ اور سکولوں میں اساتہ کی کمی کو پورا کرنے کیلئے اقدامات کریں۔ان کا کہنا تھا کہ منتخب ممبر اسمبلی شگر الیکشن کے وقت کیے گئی وعدوں کو وفا کریں عوام آپ کے وعدوں پر عمل کے منتظر ھیں۔ سیدر مڈل اسکول کی عمارت چودہ سال پہلے آپ کے دور اقتدار میں آپ نے ہی تیار کروائی تھی۔ اس کی پی سی فور چودہ سال گزرنے کے باوجود نہیں ھوسکا اگر صرف بلڈنگ تیار ھونے سے بچوں کو تعلیم ھوتی تو ہمارے اسکول میں موجود دوسو سے ذاتی بچوں کو پی ایچ ڈی ھونا چائے تھا مگر افسوس یہ ممکن نہیں۔ اس وقت پرائمری اسکول میں موجود دوسو سے ذائد بچوں کے درمیان صرف دو ٹیچرز ہیں۔ اسی طرح چار سال پہلے آپ ہی نے برالدو کونر گاوں میں ایک اسکول کا آڈر دیکر افتتاح کیا تھا وہ اسکول بھی بن نہ سکا اور نہ ہی ابھی تک اسکول کے بچوں کو سہولیات میسر ہیں۔نئے اسکولوں کی آڈر دینے کے بجائے پہلے موجود اسکولوں کی حالات کو ٹھیک کیاجائے بنیادی سہولیات فراہم کیا جائے جیسے ٹیچرز کی کمی یا فرنیچر کی کمی ہیں۔نئے اسکولز کے آڈر دینے سے بچوں کو تعلیم حاصل نہیں ھوگی۔
ضلع شگر ,نواحی گاوں برالدو کے سرکاری اسکول میں دو سوبچوں کیلئے صرف دو اُستاد۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا