اسلام آباد(ویب ڈیسک/ٹی این این)سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سروسز ہسپتال سے واپس کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے ، دوسری طرف مریم نواز نے کہا ہے کہ حکومت سے کبھی علاج کی درخواست کی ہے اور نہ ہی کریں گے ، ہمیں رحم کی بھیک نہیں چاہیے ، حکومت بار بار میڈیکل بورڈ بنا کر سابق وزیر اعظم کی صحت کے معاملے پر تضحیک کر رہی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کو 6 روز زیرعلاج رہنے کے بعد سروسز ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ، اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے جبکہ مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی بڑی تعداد بھی سروسز ہسپتال کے باہر جمع تھی ۔
واضح رہے کہ نواز شریف ہسپتال سے جیل منتقل ہونے کے لئے بضد تھے جبکہ گزشتہ روز مریم نواز نے بھی کوشش کی کہ وہ اپنے والد کو جیل کے بجائے ہسپتال میں رہنے پر راضی کر سکیں ۔ گزشتہ روز نواز شریف کو جیل نہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ نواز شریف کے میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کا معاملہ محکمہ داخلہ کو ریفر کیا تھا اور انہیں امراض قلب کے سپیشلسٹ ہسپتال میں رکھنے کی تجویز دی تھی تاہم سابق وزیراعظم نے ہسپتال کی بجائے واپس جیل جانے پر اصرار کیا تھا ۔
نواز شریف کی جیل منتقلی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ علاج کے نام پر نواز شریف کی تضحیک کی جارہی ہے ، ہم نےحکومت سے کبھی علاج کی درخواست کی ہے اور نہ ہی کریں گے لہٰذا ہمیں رحم کی بھیک نہیں چاہیے ۔مریم نواز نے کہا کہ چار دن سے نواز شریف کو سروسز ہسپتال میں رکھا ہے جہاں کارڈیک یونٹ نہیں ہے ، چار دن سروسز ہسپتال میں کیوں رکھا گیا ؟ میڈیکل بورڈ پانچ روز کیا کرتا رہا ہے ؟ بار بار میڈیکل بورڈ بنا کر سابق وزیر اعظم کی صحت کے معاملے پرتضحیک کی گئی ۔
نوازشریف کو جیل سے لے کر یہ خود آئے تھے ، انہیں ایک ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال لے جایا جا رہا ہے ، نوازشریف کی تضحیک کی جارہی ہے ، ہمیں رحم کی بھیک نہیں چاہیے ۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ چاروں بورڈز نے کہا کہ نواز شریف کو دل کے ہسپتال جانا چاہیے ، ان کی صحت کے معاملے پر ابہام حکومتی کارندوں نے پیدا کی ، اس شخص کی صحت سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے جو تین بار وزیراعظم رہ چکا ہے ۔
میڈیکل رپورٹ مثبت،نواز شریف کو سروسز ہسپتال سے واپس کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا