اسلام آباد(ویب ڈیسک /ٹی این این)اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنماوں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،مریم اورنگزیب اور احسن کا کہنا تھا کہ حکومت کاروباری حضرات کا اعتماد کھو چکی ہے، ملکی معیشت ٹویٹس سے صیح نہیں ہوگی، حکومت کو اگر اتنی جلدی نہیں تھی تو کیوں ابھی بجٹ پیش کیا گیا۔اُنکا کہنا تھا کہ حکومتی وزرا اور وزیراعظم روز لیکچر دیتے ہیں اور پارلیمنٹ کے باہر تقریریں کرتے ہیں۔ الزامات سے عوام کے مسائل حل نہیں ہونگے۔ حکومت اگر سمجھتی ہے کہ ملکی معیشت کا حل ن لیگ کے احتساب میں ہے تو ہم تیار ہیں۔ احتساب مجھ سے میری کابینہ سے شروع کیا جائے، تاہم وزیراعظم عمران خان عمران خان اپنے کابینہ ارکان سے بھی اثاثوں کی تفصیلات لیں اور وہ سوال جو نواز شریف سے پوچھے گئے وہ اپنی کابینہ سے بھی پوچھیں۔ صرف لیکچر دینے سے معاشی بحران حل نہیں ہو سکتا۔
اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف پر اب جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی ذمہ دار ہے، مسلم لیگ ن نےقومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی قراردار جمع کروا دی ہے۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ یہ حکومت زمینی حقائق سے بے خبر ہے، ہمیں حقیقی نمائندگی چاہیے۔ آج کے دور میں تقریروں کا نہیں گروتھ ریٹ کا مقابلہ ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی، ملک میں لاکھوں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ ملک میں تعمیراتی پہیہ سست ہو چکا ہے، ہر شعبے میں بروزگاری نوٹسز مل رہے ہیں لیکن حکومت کا بس اپوزیشن کے ساتھ محاذ آرائی پر زور ہے۔
ملک میں دو نئے صوبوں کی قیام کیلئے آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں جمع۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا