کراچی(ویب ڈیسک /ٹی این این) کراچی کے میئر وسیم اخترنے سندھ حکومت سے کہا ہے کہ شہر میں پانچ سو عمارتیں گرانے کے حکم کے خلاف نظر ثانی اپیل کرے۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ کے ایم سی، شادی ہال نہیں گرائے گی۔ خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں سوال یہ ہے، اگر عمارتیں غیر قانونی ہیں تو تحقیقات کی جائیں کہ بنانے کی اجازت کس نے دی تھی؟
میئرکراچی کا کہنا تھا کہ میں سندھ حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ پانچ سو عمارت کے حکم نامے پر نظر ثانی کی جائے، پانچ سو پچس عمارت اور گوٹھ کارآمد ہوسکتی ہیں تو یہ مسئلہ کیوں حل نہیں ہوسکتا؟ شادی ہالز کو مسمار کرنے کا کہا گیا ہے لوگ اس حوالے سے احتجاج کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی جانب سے نوٹسز دیئے جانے پر آل کراچی شادی ہال ایسوسی ایشن نے اتوار (27 جنوری) سے شہر کے شادی ہال بند کرنے کا اعلان کردیا۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے نوٹس دینے کی کارروائی تیز کی اور ضلع شرقی اور وسطی میں 50 فیصد پلاٹس کو کمرشل سرگرمیاں ختم کرنے کا نوٹس جاری کردیا۔
حکام کے مطابق ایس بی سی اے پیر (28جنوری) سے آپریشن شروع کرے گی۔ نوٹس ملنے کے بعد شادی ہال مالکان آج سوک سینٹر میں واقع ایس بی سی اے کے مرکزی دفتر پہنچ گئے اور احتجاج کیا۔
بعدازاں سوک سینٹر میں موجود سیکیورٹی عملے کی مداخلت پر مظاہرین منتشر ہوگئے جس کے بعد شادی ہالز ایسوسی ایشن کے وفد کے ایس بی سی اے حکام سے مذاکرات ہوئے جو ناکام ہوگئے۔شادی ہالز ایسوسی ایشن نے مذاکرات ناکام ہونے پر کل سے شادی ہال بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
مئیر کراچی وسیم اخترنے سپریم کورٹ کا حکم ماننے سے صاف انکار کردیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا