اسلام آباد(ٹی این این) گزشتہ روز بلتستان یونیورسٹی کے طلباء سے ملاقات میں افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سکردو کرگل کوریڈور کی بحالی کیلئے اُن خواہش اور اس حوالے سے جلد خوشخبری سُنانے کی اعلان کے بعد گلگت بلتستان کے منقسم خاندانوں میں عید کا سماں نظر آتا ہے۔
گلگت بلتستان کے منقسم خاندانوں نے سوشل میڈیا فیس بُک،ٹیوٹر اور کئی واٹس ایپ گروپ میں افواج پاکستان کے اس اقدام کو انسان دوست پالیسی عملی ثبوت قرار دیتے ہوئے تعریفوں کے پُل باندھ دیئے ہیں۔کل سے لیکر آج گلگت بلتستان کے تمام واٹس ایپ گروپس اور فیس بُک پر اس حوالے سے خوب چرچا ہے منقسم خاندانوں نے افواج پاکستان کیلئے دعائیں دینا شروع کردیا ہے۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے سوشل ایکٹیوسٹ حضرات نے بھی اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیکر گلگت بلتستان کی حکومت خاص طور پر وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمٰن کو آڑے ہاتھوں لیا جارہا ہے، اُنکا کہنا ہے کہ افواج پاکستان کے اس اہم فیصلے سے یقینا وزیر اعلیٰ ناراض ہونگے کیونکہ اُنہوں نے گزشتہ ماہ اس حوالے میڈیا پر ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ کرگل روڈ کی بحالی کیلئے 100 ارب کے خطیر فنڈز درکار ہیں جو ہمارے بس کی بات نہیں۔ اُن کے اس بیان پر عوام نے لائن آف کنٹرول سے خصوصی طور پر تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرکے وزیر اعلیٰ کو کہا تھا کہ سکردو سے کرگل اور سکردو سے چھوربٹ کیلئے سڑک مکمل طور پر تیار ہیں اور خاص طور پر کھرمنگ شاہراہ آل ویدھر روڈ ہے لیکن وزیر اعلیٰ نے اس حوالے سے منفی خبر دیکر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ۔
یاد رہےگزشتہ ماہ فورس کمانڈر گلگت بلتستان جنرل احسان محمود نے کھرمنگ گنگنی اور چھوربٹ کا دورہ کرکے منقسم خاندانوں کے خوشخبری سُنانے کا اعلان کیا تھا اور گزشتہ روز افواج پاکستان کے ترجمان کی جانب سے اس اہم ایشو پر تاریخی بیان اور کوریڈور کھولنے کے حوالے سے اعلان کرکے گلگت بلتستان کے عوام کی دلوں میں افواج پاکستان کے عزت اور وقار کو مزید مضبوط کیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا گلگت بلتستان کے منقسم خاندانوں کو بڑی خوشخبری،سوشل میڈیا پر دھوم۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا