گلگت( نامہ نگار) محکمہ جنگلی حیات گلگت بلتستان نے 113 جنگلی جانوروں کے قتل کا لائسنس جاری کردیا، نیلامی میں استور ماخور کے شکار کی قیمت ایک لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ جبکہ شمشال اور خنجراب کے بلیو شپ کو شکار کرنے کی قیمت غیرملکی شکاریوں کے لئے دس ہزار امریکی ڈالرز پر پہنچی۔ اسی طرح ہمالین آئی بیکس کے پرمٹ کا ریٹتین ہزار چھے سو امریکی ڈالر تک پونچ گئی۔ محکمہ جنگلی حیات نے رواں سال چار ماخور،چودہ بلیوشپ اوربچانوے ہمالین آئی بیکس کے شکار کے لئے نیلامی کی تقریب کا اہتمام کیا جس میں گلگت کے ایک مارخورکے شکارکی بولی ایک لاکھ امریکی ڈالر تک کی آفر ہوئی۔ محکمہ جنگلی حیات کے مطابق مارخور کے شکار کی یہ قیمت تاریخ میں اپنی بلند ترین سطع پر آئی ہے۔ جبکہ گزشتہ سال ماخور کی قیمت 65700 امریکی ڈالر تھی۔ نیلامی مکمل ہونے کے بعد مقامی جنگلی حیات کے تحفظ کے کمیٹی سسی کے چیرمین حامد نے بتایا کہ مارخور کے شکار سے ملنے والی اسی فیصد آمدنی تعلیم، صحت اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرتے ہیں۔ اُنکا کہنا تھا کہ ہمالین آئی بیکس کے شکار کا گزشتہ سال کوٹہ 80 تھا اس مرتبہ اس کی تعداد میں اضافہ کرکے 95کردیا ہے۔ ٹرافی ہنٹینگ کی نیلامی کی تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر تحفظ جنگلی حیات، جنگلات و جنگلی حیات عمران وکیل تھے۔ ان جنگلی جانوروں کے شکار سے حاصل آمدنی کا 80 فیصد حصہ مقامی تحفظ جنگلی حیات کی تنظیم کو دیا جاتا ہے جبکہ 20 فیصد رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جاتیہے۔۔
یاد رہے گزشتہ سال کل 110 جنگلی جانوروں کا شکار ہوا جسمیں مجموعی آمدنی 92لاکھ70 ہزار پاکستانی جبکہ 2 لاکھ 46 ہزار ایک سو امریکی ڈالرز کی آمدنی ہوئی. اور گلگت بلتستان میں ایک مارخور کے شکار کی ایک کروڑ سے تجاوز کرکے نیا ریکارڈ قائم کیا۔
گلگت بلتستان میں غیر قانونی طور پر سرکاری افیسران کی ملی بھگت سے بھی ہر سال کئی سو جنگلی حیات کی شکاری کرتے ہیں اس سے ایک طرف جنگلی حیات کی نسل ختم ہوتی جارہی ہے تو دوسری طرف قومی خزانے کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہورہا، حکومت کو چاہئے کہ اس حوالے سے بھی قانون سازی کریں۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا