قراقرم یونیورسٹی کا عدالتی حکم کے باوجود عوامی املاک پر قبضے کی کوشش، احتجاج پر کئی افراد گرفتار۔

0 0

گلگت(ٹی این این) عدالتی حکم امتناعی کے باوجود کے ائی یو انتظامیہ نے چھلمش داس میں انجینئرنگ فکلٹی کے تعمیر کے لئے بضد تنظیم تحفظ حقوق باشندگان کے دس سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا سینکٹروں افراد کا کے ائی یو تھانے کے باہر احتجاجی دھرنا شروع کردیا۔جامعہ قراقرم یونیورسٹی کے وی سی اور ڈائریکٹر میر تعظیم علاقے میں فسادات کروانا چاہتے ہیں انجینرنگ فیلکٹی کے لئے زمین درکار ہیں تو گلگت کے پشتنی باشندگان کے ساتھ معاہدہ کیا جائے قبضہ گروپ کے ساتھ معاہدہ کرکے زمین ہتھیانے کی کوشش کی گئی تو اس کو کامیاب نہیں ہونے دینگے پشتنی باشندگان اپنے حقوق کے دفاع کے لئے ہر قانونی راستہ اختیار کرینگے صدر تنظیم پشتنی باشندگان نے اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ قراقرم ایک دفعہ پھر گلگت میں حالات خراب کرانے کے درپے ہیں اور چھلمش داس جو کہ تین پتیوں کے پشتنی باشندگان کی ملکیتی چراگاہی اراضی ہے جامعہ قراقرم انتظامیہ اس اراضی پر جبرا انجینرنگ فیکلٹی قائم کرنا چاہتی ہیں اس کے خلاف پشتنی باشندگان نے عدالت سے حکم امتناعی بھی حاصل کرلی ہے اور جامعہ قراقرم انتظامیہ عدالتی حکم کو پاوں تلے روندتے ہوئے بندوق کی نوک پر تعمیرات کرنا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔انجینر نگ فیکلٹی کے لئے کے ائی یو کو زمین درکار ہیں تو وہ حقیقی باشندگان کے ساتھ مزاکرات کئے جائے انھوں نے کہا کہ عدالت نے ہماری درخواست پر پانچ جنوری تک حکم امتناعی جاری کردیا ہے اور احکامات دیا ہے کہ پانچ جنوری تک تک کسی بھی فریق کو مداخلت کرنے سے روکا ہے تاہم جامعہ قراقرم مسلسل اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بندوق کے نوک پر تعمیرات جاری رکھنا چاہتی ہیں۔جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website