گلگت(ٹی این این) عدالتی حکم امتناعی کے باوجود کے ائی یو انتظامیہ نے چھلمش داس میں انجینئرنگ فکلٹی کے تعمیر کے لئے بضد تنظیم تحفظ حقوق باشندگان کے دس سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا سینکٹروں افراد کا کے ائی یو تھانے کے باہر احتجاجی دھرنا شروع کردیا۔جامعہ قراقرم یونیورسٹی کے وی سی اور ڈائریکٹر میر تعظیم علاقے میں فسادات کروانا چاہتے ہیں انجینرنگ فیلکٹی کے لئے زمین درکار ہیں تو گلگت کے پشتنی باشندگان کے ساتھ معاہدہ کیا جائے قبضہ گروپ کے ساتھ معاہدہ کرکے زمین ہتھیانے کی کوشش کی گئی تو اس کو کامیاب نہیں ہونے دینگے پشتنی باشندگان اپنے حقوق کے دفاع کے لئے ہر قانونی راستہ اختیار کرینگے صدر تنظیم پشتنی باشندگان نے اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ قراقرم ایک دفعہ پھر گلگت میں حالات خراب کرانے کے درپے ہیں اور چھلمش داس جو کہ تین پتیوں کے پشتنی باشندگان کی ملکیتی چراگاہی اراضی ہے جامعہ قراقرم انتظامیہ اس اراضی پر جبرا انجینرنگ فیکلٹی قائم کرنا چاہتی ہیں اس کے خلاف پشتنی باشندگان نے عدالت سے حکم امتناعی بھی حاصل کرلی ہے اور جامعہ قراقرم انتظامیہ عدالتی حکم کو پاوں تلے روندتے ہوئے بندوق کی نوک پر تعمیرات کرنا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔انجینر نگ فیکلٹی کے لئے کے ائی یو کو زمین درکار ہیں تو وہ حقیقی باشندگان کے ساتھ مزاکرات کئے جائے انھوں نے کہا کہ عدالت نے ہماری درخواست پر پانچ جنوری تک حکم امتناعی جاری کردیا ہے اور احکامات دیا ہے کہ پانچ جنوری تک تک کسی بھی فریق کو مداخلت کرنے سے روکا ہے تاہم جامعہ قراقرم مسلسل اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بندوق کے نوک پر تعمیرات جاری رکھنا چاہتی ہیں۔جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی
قراقرم یونیورسٹی کا عدالتی حکم کے باوجود عوامی املاک پر قبضے کی کوشش، احتجاج پر کئی افراد گرفتار۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا