اسلام آباد ( نیوز آن لائن/ٹی این این) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے وزیراعظم عمران خان کے مشیر کی کمپنی کو ڈیم کا ٹھیکہ دیئے جانے کو سوالیہ نشان قرار دیتے ہوئے مہمند ڈیم کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔پاکستان پیپلزپارٹی نے حکومت کے لیے 5 نکاتی سوال نامہ تیار کیا ہے جس کے ساتھ معاملے کی شفاف تحقیقات تک وزیراعظم کے مشیر کو عہدے سے برطرف کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
پی پی پی کے رہنما فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ کیا یہ درست ہے کہ مخصوص کمپنی کو ٹھیکہ نوازنے کے لیے دوسری کمپنیوں کی پیشکش کو مسترد کیا گیا؟ان کا کہنا تھا کہ کیا دوسری کمپنیوں کی ڈِس کوالیفیکیشن کے بعد دوبارہ بولی کی ضروری نہیں تھی؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا چینی کمپنی کے ساتھ ڈسکن کی شراکت داری عام انتخابات کے بعد نہیں ہوئی تھی؟فرحت اللہ بابر نے سوال کیا کہ کیا تکنیکی بنیادوں پر دیگر کمپنیوں کی بولی مسترد کرنے کے بعد مخصوص کمپنی کو ٹھیکہ نہیں دیا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ کیا صرف ایک بولی کی سنوائی پپرا قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے؟
پی پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ ٹھیکہ ملنے کے 2 دن بعد تک ہم نے حکومت کی جانب سے وضاحت کا مطالبہ کیا، حکومت کی بھونڈی اور بے سروپا وضاحت سے مزید سنجیدہ سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کرپٹ عناصر چاہے کتنے بااثر کیوں نہ ہوں ان کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔خیال رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کے مشیر رزاق داؤد کی کمپنی کو مہمند ڈیم کی تعمیر کا مبینہ طور پر غیر قانونی ٹھیکہ دیا گیا۔
وزیراعظم کے مشیر کی کمپنی کو مہمند ڈیم کا ٹھیکہ،پیپلزپارٹی نے تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا