سکردو(پ،ر)عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان،بلتستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور بی وائی ایف کی جانب سے میڈیا کو جاریمشترکہ اعلامیہ میں کہا ہے کہعوام کے حقوق پر کبھی سودےبازی نہیں ھونے دینگے سرکاری مشینری مختلف حیلے بہانوں سے عوامی حقوق پر شب خون مارنے کیلئے جھال بن رہی ہےvolunteers اور نمبرداری نظام کی بحالی اس سلسلے کی کڑی ہے 21ویں صدی میں گلگت بلتستان کو غاروں کے ادوار میں دھکیلا جا رہا ہے وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت فوری طور بلدیاتی انتخابات کروا کر اداروں کو بحال کریں۔ ۔بلدیاتی اداروں کو مفلوج کرکے بیوروکریسی نظام پر مسلط ہے جو کبھی نہیں چاہتے کہ اختیارات عوام کو منتقل ہوں بلدیاتی فنڈز اپنے منظورنظر مہروں میں تقسیم کرکے یہ نہ صرف اپنے عزائم کی تکمیل چاہتے ہیں بلکہ حقوق کیلئے اٹھنے والے آوازوں کو دبانے کی خاطر ان مہروں کو جاسوسی کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔عوامی ایکشن کمیٹی، بی ایس ایف اور بی وائی ایف کامشترکہ اعلامیہ
گلگت بلتستان میں نمبرداری نظام کی بحالی عوام کو پتھر کے دور میں دھکیلنے کی سازش ہے۔ مشترکہ اعلامیہ
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا