سکردو( نامہ نگار) گزشتہ دنوں بلتستان ریجن میں سرکاری ٹھیکوں کی بندر بانٹ کے حوالے سے الیکٹرانک میڈیا پر خبر چلنے کے بعد چیف سیکرٹری نے معاملے کی انکوائری کا فیصلہ کیا تھا ، تفصیلات کے مطابق چیف انجیئنر وزیر تاجور کے حوالے سے بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک رپورٹر نے الیکٹرانک میڈیا پرچلوایا جس میں الزام عائد کیا تھا کہ بلتستان ریجن میں چیف انجئینرکی ملی بھگت سے بلتستان ٹھیکدار ایسوسی ایشن اپنی مرضی سے سرکاری ٹھیکوں کی تقسیم کرتے ہیں۔ یہ خبر حالانکہ کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ چیف انجینئر کے دفتر میں صبح شام ٹھیکداروں کا میلہ لگا رہتا ہے ، گلگت بلتستان میں افسر شاہی سسٹم کا حصہ ہے، اس بات سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ وزیر تاجور ماضی کے کرپشن کی وجہ سے دو بار معطل بھی رہا ہے۔ بلتستان ریجن میں ٹھیکوں کی بندربانٹ کیلئے باقاعدہ کلرکوں کے ذریعے سرکاری دفاتر کا استعمال کرتے ہوئے سارے کام کرتے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ پچھلے سال بھی پیش آیا جب ضلع کھرمنگ کے ایک علاقے میں سیاسی اثررسوخ کی بنیاد پر ٹھیکے دینے کے حوالے سے کچھ افراد نے ڈی سی کھرمنگ کو شکایت کی تھی اور جب کیس سکردو فارورڈ ہوا تو چیف انجنئیر نے متاثرین کی فریاد سُننا تو دور کی بات بلکہ دفتر کے سامنے کھڑا ہونے بھی نہیں دیا تھا۔آج جب اس معاملے پر الیکٹرانک میڈیا میں پر چلنے کے بعد چیف سیکرٹری کی جانب سے انکوائری کے حکم پر کرپشن مافیا کو بچانے کیلئے ٹھیکدار ایشوسی ایشن سرگرم عمل نظر آتا ہے۔ بلتستان ٹھیکدار ایسوسی ایشن نے ایک پریس ریلز کے ذریعے الزام لگایا ہے کہ متعلقہ رپورٹر اپنے بھائی کو پنجاب کے فرم کے نام پر ٹھیکہ دلانے کیلئے ٹھیکدار ایسوسی ایشن اور چیف انجنئیر کے خلاف میڈیا پر غلط روپورٹنگ کرکے دباو ڈالنا چاہتے ہیں اور متعلقہ روپورٹر کو دھکمی دی ہے کہ ایسوس ایشن اُن کچھ ماضی کے اسکینڈل منظر عام پر لا سکتا ہے۔ اس پریس ریلز پر تقریبا 65کے قریب ٹھیکداروں نے دستخط کی ہوئی ہے اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بلتستان ریجن میں سرکاری ٹھیکوں کی بندربانٹ کیلئے کس طرح منظم انداز میں سرکاری خزانے کو چونا لگایا جارہا ہے۔
کرپشن کے سمندر میں تیرتے ان بڑے مچھلیوں کوبعوض کمیشن چیف انجنئیر بلتستان کی پشت پناہی حاصل ہے اور چیف انجینئر کے پشت پر وزیر تتعمیرا ت کھڑی ہے لہذا اس کرپشن چینل کو بے نقاب کرنے کیلئے نیب کے ذریعے تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا