کھرمنگ(تحریر نیوز نیٹ ورک) ضلع کھرمنگ میونسپل ایریا کو سیاسی اثررسوخ کی بنیاد پر بنانے کی کوششوں کے حوالے ضلعی ہیڈکوارٹر کے عقب میں موجود 9 گاوں غاسنگ تا ہلال آباد کے عوام میں شدید تشویش پایا جاتا ہے۔ اہل علاقہ نے اس حوالے سے میٹیگیں شروع کردی ہے جو احتجاج تک بھی جاسکتا ہے۔ اس سلسلے ہم نے گزشتہ روز ایک خبر بریک کی تھی جس میں انکشاف کیا تھا کہ آغا محمدعلی شاہ اور مہدی سے حال ہی میں تحریک انصاف میں شامل وزیر محمد سلیم میونسپل ایریا کو اپنے سیاسی اور علاقائی مفادات کیلئے طویل کرنا چاہتا ہے ۔ لیکن اہلیان غاسنگ تا ہلال آباد کے عوام نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ علاقہ تمام تر معاشرتی نظام مشترک ہونے کے باوجوددو یونین کونسل کے درمیان سیاسی تقسیم کو اس علاقے کی ترقی اور تعمیرمیں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیکر میونسپل سے پہلے غاسنگ تا ہلال آباد کی اور جعرافیائی اور سیاسی حیثیت کو منوانے کیلئے یونین کونسل کو ڈکلیر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس حوالے سے وزیر محمد سلیم نے اپنے نام سے منسوب خبر کو مسترد کرتے ہوئے بیان دیا ہے کہ میونسپل میں اگر مہدی آباد شامل نہیں ہوتے توہمیں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ میرے لئے کھرمنگ کے سارے علاقے اہم ہیں ،حالانکہ ہم نے اس حوالے سے ہم نے سکردو میں تحریک انصاف کے اہم رہنما سے بات کی تھی اور اُنہوں نے کہا تھا کہ اُنکا مطالبہ نہیں لیکن خواہش ضرور اظہار کیاہے۔
اہلیان غاسنگ تا ہلال آباد نے میونسپل کو سیاسی بنیادوں میں تقسیم کے سازش کو روکنے کیلئے جامع حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس حوالے سے فالو اپ کرتے ہوئے ضلع کھرمنگ کو میونسپل ایریا کو جعرافیائی بنیادوں پر بنانے کے بجائے سیاسی بنیادوں پر بنانے کی کوشش کرنے کی صورت میں عوام کو سڑکوں پر لایا جائے گا۔ غاسنگ تا ہلال آباد کے عوام کا مطالبہ ہے کہ اصولی طور پر جہاں ہیڈکوارٹر ہے اُس کے قرب جوار کے علاقے میونسپل ایریا کہلاتے ہیں لیکن یہ علاقہ چونکہ سیاسی طور پر تقیسم ہونے کی وجہ سے کمزور ہے اس وجہ سے یہاں کے عوام کی رائے اور مطالبے کو پس پشت ڈال کر سیاسی طاقت کی بنیاد پر اس علاقے کے ساتھ مزید کھلواڑ نہیں ہونے دیا جائے گا۔گزشتہ رات علاقے کے اہم سیاسی سماجی اور دانشوروں نے ایک میٹینگ میں حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ میونسپل ایریا کو سیاسی بنیادوں پر تقسیم کرکے دفاعی اعتبار سے اہم ضلع کے فضا کو خراب نہ کریں اور غاسنگ تا ہلال آباد سے ہٹ کر کئی کلومیٹر اوپر یا نیچے لے جانے سے اصل حقداروں کی حلق تلفی اور یہ علاقہ مستقل طور پر نظر انداز ہوسکتا اور کھرمنگ میں احتجاج کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا