اپوزیشن کی ہر بات قبول لیکن احتساب کے عمل سے پیچھے ہٹیں گے، وزیر اعظم کا واضح پیغام۔

0 0

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک/ ٹی این این) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپنی پارٹی لیڈر شپ کو ہدایت کی ہے کہ اپوزیشن کی ہر بات مان لیں لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم احتساب سے پیچھے ہٹ جائی۔ قومی اسمبلی میں اس وقت ڈرامہ ہو رہا ہے، کرپٹ لوگوں کو جیل میں نہ ڈالا تو ملک کا مستقبل خطرے میں پڑجائے گا۔
لاہور میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں، یقین دلاتا ہوں کہ صنعتوں کے لیے ماحول درست کریں گے۔ پنجاب کے لوگ پی ٹی آئی کے جلسوں کو یاد کر رہے ہیں۔ نعرے نہ لگائیں یہ جلسہ نہیں ہے۔ سابق حکومتوں سے موازنہ نہ کیا تو آگے کیسے بڑھیں گے؟
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈھاکا میں میچ جیت کر لگا لاہور میں میچ جیتا ہے۔ مشرقی پاکستان ہم سے کیوں الگ ہوا سمجھنا ہوگا۔ جب انصاف نہیں ملتا انتشار پھیلتا ہے اور علیحدگی ہوتی ہے۔ ادارے اور اقوام غلطیوں سے سیکھ کر ہی آگے بڑھتے ہیں۔ پنجاب کا آدھا بجٹ لاہور پر خرچ کیا گیا۔ لاہور میں آبادی بڑھنے سے مسائل بڑھ گئے ہیں۔ لاہور میں آلودگی کی سطح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تمام شہروں کو برابری کے حقوق ملیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ایمانداری نہ ہو تو باقی خوبیاں معنی نہیں رکھتی۔ حکمرانی پاکستان میں، کاروبار ملک سے باہر کیا گیا۔ عثمان بزدار کا جینا مرنا پاکستان کے لیے ہے۔ سنگاپور کی 330 ارب ڈالر کی برآمدات ہیں۔ ملائیشیا کی 220 ارب ڈالر کی برآمدات ہیں۔ پاکستانی برآمدات صرف 24 ارب ڈالر ہیں۔ ہم تجاوزات مافیا کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ کرپٹ عناصر عوام کا پیسہ کھا جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قوم نے کرپشن اور منی لانڈرنگ کو کیسے برداشت کیا؟ اسلام آباد میں 350 ارب روپے کی اراضی واگزار کرالی ہے۔ ہمارے دور میں نیب کا کوئی کیس شروع نہیں ہوا۔ نیب کے سارے کیسز پہلے سے چل رہے ہیں۔ ہم نے اپوزیشن کے سارے مطالبات تسلیم کیے ہیں۔ کرپٹ افراد کو جیل میں نہ ڈالا تو ملک کا کوئی مستقبل نہیں۔ کرپشن کے خاتمے کے لیے ہی 22 سال قبل سیاست شروع کی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چین نے400 وزرا کو کرپشن میں گرفتار کیا۔ جمہوریت کے نام پر کرپشن سے سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ میثاق جمہوریت کے نام پر مک مکا کیا گیا۔ پولیس میں نئی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ پولیس کو ہم نے ایک عوامی ادارہ بنانا ہے۔ بڑے شہروں میں غریبوں کے لیے پناہ گاہیں بنا رہے ہیں۔ پاکستان وسائل سے مالامال ملک ہے۔
قائداعظم کو ہندومسلم اتحاد کا سفیر کہا جاتا تھا۔ قائداعظم کو اندازہ ہو گیا ہندومسلمانوں کو ان کا حق نہیں دیں گے۔ قائداعظم نے اس کے بعد الگ وطن کا مطالبہ کر دیا۔ قائد اعظم نے اقلیتیوں کو برابر حقوق دیئے۔ پاکستان میں اقلیتیوں کو برابر حقوق دیں گے۔ نبیﷺ نے ریاست مدینہ میں اقلیتیوں کو حقوق دیئے۔ پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں گے۔ پاکستان کی 40 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website