گلگت بلتستان کے ثقافتی ٹوپی کی بے حرمتی اور دہشتگرد بنا نے کوشش،دیامر کے عوام سراپا احتجاج۔

0 0

چلاس(نامہ نگار خصوصی) سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور 16 دسمبر 2014 کے ملکی تاریخ کے المناک دہشتگردی کے واقعے بنے والی ڈوکومینٹری میں گلگت بلتستان اور کوہستان کی ثقافتی ٹوپی کا دہشت گردی کے کردار پہ استعمال پردیامر یوتھ مومنٹ کی کال چلاس صدیق اکبر چوک احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی ثقافتی ٹوپی اس خطے کی پہچان ہے اور اس خطے کے لوگوں کا پاکستان کیلئے تمام تر بنیادی حقوق اور اکہتر سالہ محرمیوں کے باوجود بے مثال قربانیاں ہیں اس خطے سے بغیر کسی حقوق کے سی پیک گزارا جارہا ہے دیامر بھاشا ڈیم بن رہا ہے اور متاثرین آج بھی اپنے مسائل کی حل کیلئے بھٹک رہے ہیں ۔لیکن بدقسمتی سے ایک ایسے خطے کی پہچان کو دہشتگر د بناکر پیش کرنا گلگت بلتستان کے عوام کا پاکستان کے ساتھ وفاداریوں پر شک کرنا اور پاکستان پر قربان ہونے والے گلگت بلتستان کے جوانوں کی توہین ہے ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ یہ ٹوپی امن کی پہچان ہے اس ٹوپی کو بھی گلگت بلتستان کی طرح متنازعہ بنا کر گلگت بلتستان کے عوام کو کیا پیغام دینا چاہتے ہوں۔ مقررین نے آرمی چیف جنرل قمر باجودہ اور وزیر اعظم پاکستان سے گلگت بلتستان کے ثقافت کی توہین اور دہشت گرد بنا کر پیش کرنے پر انکوائری کرکے ان کرداروں کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website