اسلام آباد(تحریر نیوزنیٹ ورک) متاثرین دیامر بھاشا ڈیم کے مسائل کی حل کیلئے دیامر یوتھ آرگنائزیشن نے آج اسلام آباد گلگت بلتستان ہاوس میں ایک اہم میٹنگ کال کی۔ اس میٹنگ میں متاثرین دیامر بھاشا ڈیم کے مسائل اور حکومت کی جانب سے کئے گئے وعدوں میںبار بار منحرف ہونے اور متاثرین میں مختلف گروہ بندیوں کو حکومتی سازش قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے حکومت متاثرین سے کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ اس اہم میںمیٹنگ میں گلگت دیامر یووتھ آٹھ رکنی کمیٹی، عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستا ن کے مرکزی قائدین اور اور رکن اسمبلی نواز خان ناجی نے شرکت کی۔
اس موقع پردیامر یوتھ آرگنائزیشن کے رہنماوں نے اُن کے مسائل اورواپڈا اور حکومت کا دیامرڈیم متاثرین کیساتھ جبرانہ اقدام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اُنکا کہنا تھا کہ 2007 گھرسروے یہاں کے عوام کو کسی بھی صورت قبول نہیںکیونکہ اُس سروے میں اصل متاثرین اور غریب عوام کے بجائے منظورنذر افراد کو نوازنے کی کوشش کی ہے لہذا اس حوالے اس از نو سروے کرنے کی ضرورت ہےتاکہ غریب متاثرین کی استحصالی نہ ہو۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت معاہدہ 2010 پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں جس میں متاثرین کیلئے قسم کے سہولیات دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ اس وقت حکومت اپنے معاہدہ سے منحرف ہوکر جبرانہ پالیسیکے تحت پینتیس لاکھ کو ہاتھ میں تھما کر متاثرین کو علاقہ بدر کرنا چاہتے ہیں لہذا س اقدام کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور عوام احتجاج پر مجبور ہونگے۔
میٹنگ میں گلگت بلتستان کے اہم سیاسی قائدین نے وزیراعظم پاکستان اورچیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا کہ جلداز جلد اس زیادتی کیخلاف ایکشن لےکر ڈیم متاثرین کے امنگوں کے مطابق حقوق فراہم کریں اور یہ نہ سمجھیں کہ دیامر کے عوام اس مشکل گھڑی میں تنہا ہیں بلکہ ضرورت پڑی تو مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں پورے گلگت بلتستان کی سطح پر احتجاج کیا جائے گا لہذا احتجاج سے بہتر ہے کہ حکومت اور واپڈا اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا