اسلام آباد(تحریر نیوز نیٹ ورک)وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے پہاڑوں کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہاڑوں اور قدررتی وسائل کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ پہاڑوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں میں بھی آسانی پیدا کی جائے جس طرح پہاڑوں کا عالمی دن منا رہے ہیں ایسے ہی پہاڑوں کے رہنے والوں کا بھی دن منانا ہوگا تا۔کہ ان کی مشکلات اور مسائل سے دنیا کو آگاہی دی جائے۔تقریب سے اٹلی کے سفیر برائے پاکستان پونتی کورو۔اقوام متحدہ کے ریزیڈینٹ کواڈینیٹر مسٹر نیل بونے و دیگر شخصیات نے بھی خطاب کیا۔وزیر اعلی گلگت بلتستان نے مزید کہا کہ پہاڑوں اور گلیشیر کے تحفظ کہ لئے اٹلی کا کردار اہم رہا ہے کے ٹو کے دریافت میں بھی اٹلی کے۔کوہ پیما کا نام آتا ہے۔گلگت بلتستان میں امن و امان کی بحالی اور سیاحوں کے لئے پرکشش مقامات ہونے کی وجہ سے جہاں سالانہ لاکھوں سیاح آتے ہیں وہاں ماحولیات کے حوالے سی بھی چیلنجز درپیش ہیں جس سے نمٹنے کے لئے گلگت بلتستان حکومت اقدامات کر رہی ہے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں دو ھزار بیس تک ویسٹ منیجمنٹ کمپنی اپنا کام شروع کر گی گلگت اور سکردو میں اس وقت کمپنی کام کر رہی ہے اگلے تین ماہ میں دیامر گانچھے اور نگر میں بھی شروع ہوگی وزیر اعلی نے کہا کہ اس وقت ہر ماہ دو ہزار کنٹیںر چین سےخنجراب آتے ہیں آگے مختلف گاڈیوں میں مال آتا ہے ان کی تعداد چھ ہزار ہے سی پیک بننے۔کے بعد یہ تعداد دس ہزار کنٹینر تک جائے گی جس سے ماحولیاتی آلودگی پیدا ہوگی جس سے نمٹنے کے لئے اقدامات کی ضرورت ھوگی اس کے لئے حکومت کو دیگر اداروں اور سٹیک۔ہولڈر کی مدد کی ضرورت ہوگی ۔وزیر اعلی نے۔مزید کہا کہ محفوظ گلگت بلتستان کے لئے دو ہزار بیس تک پورے گلگت بلتستان میں سی سی ٹی وی کیمرے لگیں گے جس سے امن وامان کی بحالی یقینی ہوگی وزیر اعلی۔نے۔کہا کہ اٹلی۔کے تعا ون سے گلگت بلتستان میں آٹھ لاکھ ایکڑ زمین کی آباد کاری کامنصوبہ جاری ہے جس میں سے ایک لاکھ ایکڑ۔کی آباد کاری مکمل ہو چکی ہے۔وزیر اعلی نے۔مزید کہا کہ ماحولیاتی آلودگی سے بچنے اور زندگی کو محفوظ بنانے۔کے لئے الیکٹرک سٹی کے شعبے میں بھی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے جس کے لئے حکومت سمارٹ میٹر سمارٹ کیبل کے۔منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا تجربہ کامیاب ہو چکا ہے گلگت میں کنو داس میں مکمل۔کر چکے ہیں پورے گلگت بلتستان کے لئے گیارہ ملین کی ضرورت ہے جس کے لئے ایشئں ڈولمنٹ بنک سے بات چیت چل رہی ہے۔وزیر اعلی نے آخر میں اس عزم کا اظہار کیا کہ اگلے برس جب ہم پہاڑوں کا عالمی دن منارہے ہوں تو پہاڑوں کے رہنے والے لوگوں کی زندگیوں میں بھی آسانی لا سکیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا