اسلام آباد( نامہ نگار) آذاد پرنٹ میڈیا گلگت بلتستان میں ایک سنگین مسلہ ہے کیونکہ یہاں کے اخبارات نجی سطح پر مارکٹیگ کے واقع نہ ہونے کے سبب صرف سرکاری اشتہارات پر منحصر کرتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ حکومت کی ہمیشہ سے کوشش ہوتی ہے کہ اُن کے کرپشن کے خلاف کوئی خبر شائع نہ ہو ،حکومت کے خلاف لکھنے والے لکھاریوں کے مضامین نہ چھپے۔ کچھ اخبار مالکان اس حکومتی حکم نامے کی مکمل تابعاری کرتے ہوئے پرنٹ میڈیا کو محض آمدنی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے لیکن گنتی کے کچھ اخبارات ایسے بھی ہیں جو کبھی کبھار صحافتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں جو کہ یقیناًحکومت کیلئے ناگوار گزرتا ہے۔
گزشتہ دنوں تھک نیاٹ مومنٹ دیامر نے اپنے حقوق کیلئے ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اُس مظاہرے میں میں وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری کے خلاف کئی سنگین الزمات لگائے لیکن چند اخبارات نے اس خبر کو بریک کی تھی، یہی وجہ ہے کہ ایک واقعاتی خبر کی اشاعت پر مقامی حکومت کی جانب سے کچھ اخبارات کیلئے سرکاری اشتہارات کی فراہمی بند کردی ہے ۔ دوسری طرف کچھ اخبار مالکان اس معاملے میں بھی خوش آمدیوں میں مصروف ہیں اور حکومتی اراکین کو گلگت اور اسلام آباد میں دعوتیں دیکر خوش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اُ س احتجاج کے حوالے سے محکمہ اطلاعات کے ذریعے اخبارات تک پیغام پونچا دیا تھا کہ اس قسم کے خبروں کی اشاعت نہ کریں لیکن کچھ اخبارات نیااُ س حکم نامے کو ماننے سے انکار کیا اور کچھ خاموش رہے۔
المیہ یہ ہے کہ اس وقت گلگت بلتستان سے کئی درجن اخبارات کی سرکولیشن ہوتی ہے لیکن آج تک مقامی اخبارات ادارتی پالیسی وضع نہیں کرسکے بلکہ مفادات حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے سے چُھپ کر سرکار کی آشیرباد حاصل کررہے ہوتے ہیں اور مقامی حکومت کو اخبارا مالکان اور ادارتی معاملات چلانے والوں کے اس پیشے سے متعلق تعلیمی ،تجرباتی کمزوریوں کا علم ہے اس وجہ سے کوشش کرتے ہیں کہ اخبار وہی کریں جو حکومت کو منظور نظر ہو۔ یہ پہلی بار نہیں اس سے پہلے بھی ایسا ہوچُکا ہے اُس وقت اخبارات نے حکومت کے خلاف صحافتی قدار کی روشنی میں کھڑے ہونے کے بجائے سرکولیش ہی بند کرکے ڈی ڈی ایفارمیشن کو عہدے سے برخاست کرنے کا مطالبہ کیا تھا،آج وہ کئی ماہ بعد دوبارہ بحال ہوکر اس وقت ایکشن میں نظر آتا ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا