ہنزہ(تحریر نیوز نیٹ ورک) ضلع ہنزہ کےساتھ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن کے حکومت کی جانب سے امتیازی سلوک کے خلاف آل پارٹیز، ہوٹل ایسوسی ایشن، مارکیٹ ایسوسی ایشن کا علی آباد ہنزہ میں ضلع بھر کے عوام سردی کے سخت موسم میں بھی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آیا۔ مظاہرین نے مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اوراُنکا کہنا تھا کہ اس وقت ضلع ہنزہ بجلی کے لے لوڈشیڈینگ کے تاریخی بحران سے گزر رہا ہے لیکن عوام سے ووٹ لینے والے اسپیشل لائینوں کے مزے لے رہے ہیں،مظاہرین نے خطاب کرتے ہوئے مختلف سیاسی اور سماجی رہنماوں کا کہنا تھا کہ اس وقت ضلع ہنزہ کو پینے کا صاف پانی میسر ہے اور نہ ہی ضلع ہزنہ میں کوئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر اور اچھا ہسپتال ہے جہاں غریب عوام کو بنیادی صحت کی سہولت مل سکے۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہحکومت کی جانب سے عوام کوبیوقوف بنانےکیلئے0.8 mw کا جو ڈیزل جنریٹر لایا گیا ہے وہ ایک گاوں کے لئے بھی ناکافی ہے اور اس جنرٹیر کرپٹ عملےکیلئے ڈیزل چوری کا گنگا بن گیا ہے جبکہ پن بجلی کے منصوبے عوامی نمائندوں کے مجرمانہ غفلت کے شکار ہیں،اُنکا مزید کہنا تھا کہ قراقرم ہائے وے کیلئے 2007 میں چھینی گئی آباد زمینوں کا آج تک معاوضہ نہیں دیا گیا ہے جبکہ عطاآباد جھیل کے متاثرین کے لیے USAIDکا دیا ہوا 12 ملین ڈالر کی نقد امداد سرے سے ہی غائب کردی گئی ہے. بابا جان سمیت ہنزہ کے درجنوں نوجوان نا کردہ گناہوں کی عمر قید سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ قاتلوں کو تحفظ دینے کے لئے جوڈیشیل انکوائری رپورٹ کو غائب کردیا گیا ہے۔ ہنزہ کے ان بنیادی مسائل کی وجہ موجودہ اور ماضی کی حکمران پارٹیاں اور ان کے برابر شریک جرم نام نہاد بلکہ عوام دشمن نمائندے ہیں۔ اس موقع پر مظاہرین نے وزیر اعلیٰ اور محکمہ برقیات مردآباد کے نعرے بھی لگا دئے، آل پارٹیز کمیٹی کے رہنماوں نے عوامی مسائل حل نہ کرنے کی صورت میں قومی تحریک کا آغازکرنے اورمطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں شاہرا ہ قراقر م پر دھرنے کی دھمکی دی ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا