شگر(پ ر)سیپ ٹیچرز ایسوسی ایشن ضلع شگر کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان جناب حافظ حفیظ الرحمن صاحب نے سیپ اساتذہ کو وعدے کے تحت مرحلہ وار ریگولر کرنے کے لیے پوسٹیں تخلیق کرکے اس ضمن میں ورفیکیشن کا عمل بھی کئی ماہ پہلے خصوصی کمیٹی نے اپنی نگرانی میں مکمل کر لیا تھا اس کے باوجود ریگولریٹی کے عمل میں مسلسل تاخیر ہونے کی وجہ سے تمام سیپ اساتذہ سخت تشویش میں مبتلا ہے آج تک جتنے بھی نئے یا متبادل اساتذہ بھرتی ہوئے ہے سب انتہائی بے سروسامانی میں قوم کے معماروں کو علم کے روشنی سے ہمکنار کرنے میں مصروف عمل ہے اکثر سکولوں میں اکیلا استاد پورے سکول کو مقررہ وقت سے ذائد کا ٹائم دے کر بہترین طریقے سے چلا رہے ہے جس کا قوم کے معماروں و وقت کے ساتھ ساتھ خدا بھی گواہ ہے بے تحاشہ خدمات و قربانیوں کے باوجود سیپ اساتذہ کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے آخر خدا جانے حکومت کی راہ میں ایسی کونسی اعوامل سیپ اساتذہ کو ریگولر کرنے میں رکاوٹ کا سبب بنے ہوئے ہے سمجھ سے بالاتر ہے وزیر اعلی گلگت بلتستان فوری نوٹس لے کر سیپ اساتذہ کو عملی طور پر ریگولر کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کریں. جی بی گورئمنٹ کے اعلان کے بعد بیکس والے بہانے بنا کر تقریبا ایک سال سے سیپ اساتذہ کو تنخواہیں بھی نہیں دے رہا اس مہنگائی کی دور میں بغیر تنخواہ کے سیپ اساتذہ خدمات سر انجام دے کر کسطرح زندگی بسر کر رہیں ہوں گے اہل دل انصاف کے ساتھ خود فیصلہ کریں تمام تر مشکلات کے باوجود خدمات سر انجام دینے والے سیپ اساتذہ قومی ایوارڈ کے مستحق ہے. ہمارا وزیر اعلی گلگت بلتستان جناب حافظ حفیظ الرحمن صاحب وزیر تعلیم, چیف سکیڑی و سکیٹری ایجوکیشن سمیت دیگر تمام متعلقہ حکام سے بھر مطالبہ ہے کہ فوری سیپ اساتذہ کے ریگولریٹی کے عمل کو مکمل کرکے میرٹ و اھلیت کی بنیاد پر سکول کے حساب سے سنیارٹی کو مد نظر رکھکر نوٹیفیکیشن کرکے اساتذہ کو ریگولر کیا جائیں اور فیز ٹو کے لیے پالیسی بنایا جائیں. ریگولریٹی کے عمل میں مذید تاخیر ہونے کی صورت میں ہم اپنا جمہوری احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہے جس کے لیے پورے گلگت بلتستان کے سیپ اساتذہ مکمل ایک دوسرے سے ہمہ وقت رابطے میں ہے اسکا اعلان آنے والے ہفتے میں حالات کو دیکھ کر کیا جائیگا
سیپ اساتذہ کو وعدے کے مطابق مستقل کرنے کے عمل میں مسلسل تاخیر انتہائی سخت تشویش ناک ہے۔سیپ ٹیچرز ایسوسی ایشن ضلع شگر
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا