متاثرین دیامربھاشاڈیم گروہ بندی کا شکار، عام آدمی شدید متاثر ہونے کا خدشہ۔

0 0

اسلام آباد(تحریر نیوز نیٹ ورک)متاثرین دیامر بھاشا ڈیم کی ری سٹلمنٹ کا معاملہ دبدن بگڑتا جارہا ہے۔ اس معاملے کی میں جہاں واپڈا اور گلگت بلتستان حکومت کے حوالے عوام میں شدید خدشات پایا جاتا ہے وہیں متاثرین کے درمیان مسائل کی حل کیلئے ایک پیج پر نہ آنا ایک سنگین صورت حال اختیار کرگیا ہے۔متاثرین اپنے مسائل کی حل کیلئے ایک دوسرے پر ملک دشمن جیسے خطرناک الزامات دیتے رہے ہیں ۔
متاثرین دیامر بھاشا ڈیم کے ایک گروہ کا خیال ہے کہ معاہدہ 2010 ایک مخصوص قبیلے کے ساتھ کیا گیا ہے ،جس کا ڈیم کے 95 فیصد حقیقی متاثرین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ، وہ لوگ اُس معاہدے کوبدنام زمانہ معاہدہ 2010 سے تشبیہ دیتے ہوئے شدید تحفظات کا ظہار کرتے رہے ہیں اور اُنہوں نے اس معاہدے کو نام نہاد قرار دیکر ماننےسے صاف انکار کیا ہوا ہے۔
جبکہ ایک گروہ کامطالبہ ہے کہ حکومت معاہدہ 2010 کے مطابق طے شدہ ماڈل ویلیجز میں متاثرین کی فوری آبادکاری کا بندوبست کیا جائے اور ان تمام کاموں کی تکمیل کیلئے چلاس ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام جلد از جلد عمل میں لایا جائے۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے تمام کالجز میں متاثرین دیامر بھاشا ڈیم کو خصوصی کوٹہ مختصکریں اورمعاہدے کے مطابق متاثرین کو ملازمتیں دی جائیں ۔ دوسری طرف گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کپٹن شفیع خان گزشتہ ہفتے وفاقی وزیر انسانی حقوق شرین مزاری سے ملاقات کرکےدیامر بھاشا ڈیم کے معاوضوں کی ادائیگیوںمیں بڑے پیمانے پر کرپشن کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے اور سپریم کورٹ کی جانب سے دیامر بھاشا ڈیم زمین کی خریداری کے معاملے پر گھپلے کا انکشاف ہونے کے بعد انکوائری کا حکم دیا ہوا ہے۔
گزشتہ ہفتے ایک فریق نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبرپختونخواہ ضلع کوہستان انتظامیہ کی جانب سے ضلع ہربن کوہستان کے رہائشیوں نے ہماری زمینوں پر جھوٹا دعویٰ کرنے کا انکشاف کیا ہے اُنکا کہنا تھا کہ دیامر ڈیم اصل میں گلگت بلتستان کی زمینوں پر بن رہا ہے لیکن یہاں کے عوام کو حقوق سے دور رکھا جارہا ہے اُنکا کہنا تھاکہپاکستان بننے سے پہلے یہ ہماری ملکیتی زمین تھی،بھاشا ڈیم کی زمین کے سارے ثبوت گلگت بلتستان حکومت کے پاس موجود ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی زمینوں کی ملکیت کے حوالے سے رپورٹ خفیہ ہے اسلئے فراہم نہیں کر سکتے جس پر ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان اقبال سعید نے عدالت سے استدعا کی اگر رپورٹس ہمیں فراہم نہیں کئے جا سکتے ہیں تو اس کو عدالتی حکم نامے میں لایا جائے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس تمام معاملات کے باوجود یامر کے عوام کا اپنے حقوق کیلئے ایک نہ ہونے سے اُنہیں بہت ذیادہ نقصان برداشت کرنا پڑے گا سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس لڑائی میں نقصان خواص کے بجائے عوام بے سہارا لوگوں کا ہوگا لہذا دیامر کے عوام کو اپنے مسائل کی حل کیلئے ایک پیج پر آنا ہوگا ورنہ نقصان سب کو ہوگا اور معاوضہ چند افراد کے ہاتھوں چلا جائے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website