سکردو(تحریر نیوز نیٹ ورک) اہلیان نیورنگا، کشمراہ اور آستانہ کے عوامی وسائل آبپاشی اور حقوق آبپاشی کو متاثر ہونے نہیں دیں گے۔ جب تک عوام اور محکمہ برقیات کا معاہدہ نہیں ہوگا موقع پر پن بجلی گھر کا کام شروع نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار اسسٹنٹ کمشنر سکردو کیپٹن ر ثناء اللہ خان نے مقپون ژھر بجلی گھر کی تعمیر کے سلسلے میں عمایدین نیورنگا، کشمراہ، آستانہ اور ایگزیکٹیو انجینئر محکمہ برقیات کے ہمراہ ہونے والی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں عمائدین علاقہ نے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایگزیکٹیو انجیبئر محکمہ برقیات نے کہا کہ علاقے کے حقوق آبپاشی کو ہرگز متاثر نہیں کیا جائے گا اور جب پانی کی کمی کی وجہ سے حقوق آبپاشی متاثر ہو تب بجلی گھر بند رہے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بجلی گھر کے تعمیر کے بعد وہاں پر چھوٹے ملازمین کی بھرتی کے دوران اسی علاقے کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ترجیح دی جائے گی۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سکردو نے عمائدین کو یقین دہانی کی جب تک ان کے خدشات دور نہیں ہونگے متعلقہ محکمے کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حقوق آبپاشی علاقے کے لوگوں کا دیرینہ حق ہے اس کو کسی صورت متاثر ہونے نہیں دیا جائے گا۔ اجلاس کے آخر میں محکمہ برقیات اور عمائدین علاقہ کے مابین طے پایا گیا کہ عمائدین اپنے عوام سے مشاورت کرکے اپنے مطالبات منگل کے روز اسسٹنٹ کمشنر سکردو کے پاس جمع کریں گے اس کے بعد محکمہ برقیات سکردو اور عمائدین علاقہ کے مابین معاہدہ نامہ تحریر کیا جائے گا۔ لوگوں کے تمام تر خدشات کو ختم کرنے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر سکردو اپنی سفارشات حکام بالا کو ارسال کریں گے۔ عمائدین نے اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سکردو کی عوام دوست پالیسی کو سراہا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا