گلگت (پ،ر)پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے انکشاف کیا ہے کہ پچھلے تین سال کے دوران ترقیاتی بجٹ کی مد میں آنے والے 25 ارب روپے 10 سے 15 خاندان کے پاس چلے گئے ہیں، کرپشن کی بدترین مثال قائم ہوگئی ہے۔ مقامی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئےاُن کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سمیت تمام وزرائ، مشیر اور اراکین اسمبلی کے بھائی ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں، اس وقت گلگت بلتستان میں سیاستدانوں کی نہیں ڈاکوئوں کی حکومت قائم ہے۔ یہاں اس وقت مٹھی بھر لوگ حکومت میں رہ کر بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ خزانے کو لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان میں کرنل فضل حسین کے دور کی کرپشن کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ تمام ڈاکو اہم عہدوں پر بیٹھ کر خطے کے وسائل کو بے دردی سے لوٹ رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں مریضوں کو پیراسٹامول کی ٹیبلٹ تک دستیاب نہیں ہے لیکن حکومتی لوگ اپنی مراعات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ یہاں کرپشن کا یہ عالم ہے کہ ٹھیکیدار خود پی سی ون بناتے ہیں اور خود ہی منصوبوں کی منظوری لیتے ہیں۔ ٹھیکیدار کے بنائے ہوئے پی سی ون کا ٹینڈر بھی ہوجاتا ہے۔ گلگت بلتستان میں عوام کے مفاد کیلئے نہیں چند مخصوص ٹھیکیداروں کے مفاد کو مدنظر رکھ کر منصوبے رکھے جاتے ہیں۔ جس کی واضح مثال یہ ہے کہ سمارٹ میٹر لگانے کا فائدہ عوام کو نہیں حفیظ سرکار کو ہے۔ تمام سکیموں میں مشینری کی خریداری بھی رکھی جاتی ہے کیونکہ مشینری کی خریداری کا ٹھیکہ بھی وزیراعلیٰ کے ٹھیکیدار کے پاس ہے جو سکیم عام ٹھیکیدار 10 کروڑ روپے میں مکمل کرتے ہیں وہی منصوبے حفیظ الرحمان کے منظور نظر ٹھیکیدار کو 50 کروڑ میں دیئے جاتے ہیں۔ عام ٹھیکیداروں اور وزیراعلیٰ کے منظور نظر ٹھیکیداروں کے ریٹس کا موازنہ کیا جائے تو کرپشن کا پہاڑ نکل آئے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جن اداروں کو کرپشن روکنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ بالکل خاموش بیٹھے ہیں۔ پچھلے تین سال کے دوران سارے ٹھیکے وزیراعلیٰ کے چہیتوں میں تقسیم کئے گئے ہیں اور بجٹ کے ساتھ ظلم کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سمیت جن وزراء اور مشیروں کے بھائی ٹھیکیدار ہیں ان کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے کیونکہ سارا بجٹ ان کے پاس چلا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کے اراکین اسمبلی اور وزراء کی تنخواہیں اور مراعات پاکستان کی تمام اسمبلیوں کے ممبران اور وزراء سے زیادہ ہے۔ صوبائی اسمبلی کے اراکین مسکین اور فقیر ہیں۔ ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ غیر منتخب لوگوں کو حکومت میں لاکر چار چار لاکھ روپے تنخواہیں دی جارہی ہیں۔ شوقیہ جھوٹ بولنے والوں کو بھی وزیر بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے جن افسران اور کرپٹ عناصر کے خلاف وائٹ پیپر جاری کیا تھا چن چن کر انہیں افسران کو ترقیاں دی جارہی ہیں۔ منظور نظر اور کرپٹ افسران کے تبادلے پچھلے تین سال سے رکے ہوئے ہیں۔ گلگت بلتستان میں ہر طرف کرپشن ہو رہی ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ جس نے پوچھ گچھ شروع کی اسی کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ ایسے لوگوں کو فورتھ شیڈول میں ڈالنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ حکومت نام کی کوئی شے نہیں۔ چور اور ڈاکو حکمران بن کر عوام کا خون چوس رہے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے ممبران جی بی قانون ساز اسمبلی اور وزیر اعلیٰ کےبھائیوں کو سرکاری ٹھیکے نوازنے کا انکشاف
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا