شگر(عابدشگری)یوم آزادی گلگت بلتستان ضلع شگر میں بھر پور انداز سے منایا گیا۔ دن کا آغاز ڈپٹی کمشنر شگر کی آفس میں پرچم کشائی سے ہوا۔پرچم کشائی کی تقریب میں تمام ضلعی اداروں کی سربراہوں نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر شگر ذاکر حسین نے پرچم کشائی کی۔ جبکہ پولیس کی چاق و چوبند دستے نے سلامی دی۔جس کے بعد شگر کے مختلف سکولوں کی کی طلباء کی جانب سے جشن آزادی ریلی نکالی گئی۔جس میں سینکڑوں طلباء شریک تھے۔ طلباء اپنے ہاتھوں میں پلے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے جس پر جشن آزادی کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ریلی حسینی چوک پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوگئے۔
ڈپٹی کمشنر ذاکر حسین ،ایس پی ضیاء اللہ خان ،سابق صوبائی وزیر راجہ اعظم خان،سابق ممبر ضلع کونسل حاجی وزیر فداعلی ،دیگر نے جشن آزادی گلگت کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔
آزادی کا مطلب اور قیمت ان اقوام سے پوچھے جو ابھی تک غلامی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔گلگت بلتستان کو ہمارے ابائو و اجداد نے خود لڑکر حاصل کیا اور پاکستان کی جھولی میں ڈال دی۔ کرنل حسن خان،میجر بابر خان،شاہ خان اور دیگر ہیروز کو ہمیشہ یاد رکھنا ہماری اور آئندہ آنے والی نسلوں کی ذمہ داری اور فریضہ ہے۔ جشن آزادی گلگت بلتستان کے موقع پرڈپٹی کمشنر شگر کی آفس میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ آزادی دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس کی قدر و قیمت ان اقوام اور لوگوں سے پوچھیں جو ابھی تک غلامی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔پاکستان بننے کے بعدارض شمال کے سپوتوں نے خود لڑ کر اس خطے کو ڈوگروں سے آزاد کرایا۔ڈوگرے اس خطے پر جبری مسلط تھا اور ہمیں غلاموں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کررہے تھے۔پاکستان آزاد ہونے کے بعد یہاں کے باغیرت لوگوں کے باغیرت آفیسران نے ملکر ایک منظم کوشش کے تحت ڈوگرہ راج کا خاتمہ کیا اور ڈوگرہ گورنر گھنسارہ سنگھ کو گرفتار کرکے اس خطے کی باقاعدہ آزادی کا اعلان کیا۔اس میں پیش پیش کرنل مرزہ حسن خان،میجر بابر خان،میجر برائون،شاہ خان اور دیگر گلگت سکائوٹس کے آفیسران اور جوان شامل تھے۔ہمیں ابائو اجداد نے آزادی کے بعد پاکستان میں بلاشرط پاکستان سے الحاق کیا۔ان ہیروز کی کارناموں ہمیشہ یاد رکھنا ہماری اور طلباء کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا