اسلام آباد( تحریر نیوزنیٹ ورک) سپریم کورٹ آف پاکستان میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے زیر سماعت کیس مزید پندرہ دنوں کیلئے ملتوی کردیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی لاجر بنچ نے پچھلے سماعت میں وفاق پاکستان کو حکم دیا تھا کہ وہ یکم نومبرکو گلگت بلتستان سے متعلق جواب داخل کریں لیکن آج کی سماعت میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر گلگت بلتستان سے متعلق آئینی پیٹیشن پر وفاق جواب جمع نہ کرسکے۔ اس موقع پر چیف جسٹس کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کو کئی مشکلات کاسامنا ہے جو میں عدالت کو نہیں بتایا سکتا یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت تاحال اس معاملے پرغور نہیں کر سکی۔اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کی اہمیت اور حیثیت سے آگاہ ہیں۔
اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ مشکلات اور مسائل ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیںاورحکومتیںبھی آتی جاتی رہتی ہیں کام نہیں رکنے چاہیے اور گلگت بلتستان کے حوالے سے مقدمے پرحکومت سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت دو ہفتے کا وقت دےکیونکہ اس وقت وزیر اعظم بیرون ممالک اہم دوروں پر جارہے ہیں اور وزیر اعظم کی واپسی پر اس حوالے سے سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کا جواب جمع نہ کرانے پر شدید اظہار برہمی جواب جمع کرنے کیلئے آخری موقع دیا اور یہ بھی حکم دیا کہ 15 نومبر کے بعد اس کیس کی روزانہ کے بنیاد پر سماعت ہوگی۔اس موقع پرچیف جسٹس کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے کہا سماعت کی حکومتیں آتی رہتی ہیں پالیسی تبدیل نہیں ہونی چایئے۔ چیف جسٹس کے سوال پرجسٹس گلزار احمد نے کہا ہم معاملہ حکومت کو بھیجا تھا کہ حکومت اس پر فیصلہ کرے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پچھلے 14 سال سے گلگت بلتستان کے لوگوں کیلئے کچھ نہیں کیا گیایہاں کے 25 لاکھ لوگ شناخت سے محروم ہیں جس پرسلمان اکرم راجہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ ان لوگوں کے پاس پاکستان کے شناختی کارڈ بھی موجود ہیں۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارک دیتے ہوئے کہا کہ بی بی سی نے گلگت بلتستان کو متنازعہ علاقہ ظاہر کیا یہ کیا معاملہ ہے۔چیف جسٹس نے مخدوم علی خان اور خالد جاوید کو اگلی سماعت کیلئے عدالتی معاون مقرر کر دیااعتراز احسن اور خواجہ حارث پہلے سے عدالتی معاون ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے مقدمت کوپندرہ نومبر سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا حکم دیتے ہوئےسماعت پندرہ نومبر تک ملتوی کر دیا۔
وفاقی حکومت کی لاپروائی،سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان سے متعلق کیس کومزید15 دنوں کیلئے ملتوی کردیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا