کھرمنگ(نامہ نگار خصوصی) ضلعی انتظامیہ کھرمنگ نے ضلع بھر میں باقاعدہ طور پر ڈوگرہ دور کے قانون پر دوبارہ عمل درآمد کرتے ہوئے نمبرداری سسٹم کی بحالی کا فیصلہکرلیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے ضلع بھر میں نمبردار کونسل تشکیل دیکر تمام انتظامی اور ترقیاتی اختیارات دینے کیلئے تیاریاں شروع کردی ہے۔ گزشتہ ہفتے ڈپٹی کمشنر کھرمنگ کی زیر صدارت 40 سے ذیادہ گاوں کے سابق نمبرداروں کی شرکت کے ساتھ بلتستان ریجن میں اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس منعقد ہوئے۔ اس اجلاس میں کھرمنگ کمنگو سے تعلق رکھنے والے ایک سابق نمبردار کو باقاعدہ نمبردار کونسل کا صدر بھی سرکاری سطح پر متخب کرلیا گیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ان نمبرداروں کو باقاعدہ سرکاری سطح پر مراعات سے بھی مستفید کیا جائے گا۔
اس خبر کے بعد سوشل میڈیا پر مسلسل ضلعی انتظامیہ پر شدید تنقید کیاجارہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ آج اکیسویں صدی میں غلامانہ دور کا قانون نافذ کرنا دراصل ضلعی انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں نے منہ موڑنے کے مترادف اور آرام پسندی کی کوشش ہے، عوامی حلقوں کا کہنا ہے نمبرداری قانون مہاراجہ ہری سنگھ کے زمانے کا قانون ہے اور اس قانون کے تحت عوام کی بہت ذیادہ استحصالی ہوتے رہے ہیں کیونکہ اُس دور میں مہاراجہ نے پورے جموں کشمیر میں اپنی ریاستی رٹ قائم رکھنے کیلئے عوام کی مرضی کے بغیر مقامی راجگان کی ملی بھگت سے چند افراد کو عوام پر مسلط کرکے غریب عوام پر ظلم کرتے تھے ۔لہذا آج کے اس ترقی یافتہ دور میں عوام پر ایک جابرانہ نظام مسلط کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور جمہوریت کے منافیہے۔
سوشل میڈیا پر گزشتہ کئی روز سے جاری اس مباحثے میں کہا جارہا ہے کہ اس قسم کے ہتکنڈے درآصل بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کی سازش اور چند افراد کی ملی بھگت سے عوام الناس میں ابھرتی ہوئی سیاسی سماجی شعور کو روکنے کی سرکاری حکمت عملی ہے۔ سوشل میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ اس وقت ضلع کھرمنگ میں نمبردار اور اُن کے رفقاء ماضی سے لیکر آج تک کرپشن اور ہر قسم کے معاشرتی جرائم میں ملوث رہے ہیں اور آج نمبرداروں کے وارثین میں بہت کم لوگ ہونگے جو پڑھا لکھا بھی ہو ایسے میں ایک باشعور معاشرے میں ظالمانہ دور کے قانون کا نفاذ عوام کے ساتھ ذیادتی ہے۔اس حوالے سے کچھ لوگوں نے باقاعدہ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے تنظیموں سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے
عوامی حلقوں گورنر گلگت بلتستان اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کالے قانون پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کریں اور گلگت بلتستان میں بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں تاکہ انتقال اقتدار ماضی میں عوام پر ظلم کرنے والوں کو منتقل ہونے کے بجائے عوام ووٹ کے ذریعے دیہی سطح کے منتظم منتخب کرسکے۔
ضلع کھرمنگ میں سرکاری سطح پر ڈوگرہ قانون نافذ کر نے کا فیصلہ، سوشل میڈیا پر ہنگامہ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا