اسلام آباد( ویب ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے آئی جی اسلام آباد جان محمد کے تبادلے کا ازخود نوٹس لے لیا۔سپریم کورٹ نے سیکرٹری داخلہ کو فائل سمیت فوری طلب کرلیا۔ سیکرٹری داخلہ نے آئی جی ٹرانسفر کی وجوہات سے لاعلمی کا اظہار کیا جس پر سپریم کورٹ نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو آج ہی ساڑھے تین بجے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی وجوہات پر آئی جی جیسے افسر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، ریاستی اداروں کو اس طرح کمزور اور ذلیل نہیں ہونے دیں گے، حکومت وجوہات بتائے آئی جی کو کیوں ٹرانسفر کیا، سنا ہے کسی وزیر یا سینیٹر کے بیٹے کا مسئلہ چل رہا تھا، کیا ملک میں قانون کی حکمرانی ایسے قائم ہوگی؟۔
چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور میں بھی پولیس افسر کو تبدیل کیا گیا، پنجاب حکومت سے بھی تفصیلات لیکر آگاہ کریں، افسران کو اعتماد دینا چاہتے ہیں، اے ڈی خواجہ کیس میں عدالت واضح احکامات دے چکی ہے، حکومت کی من مرضی سے افسران کے تبادلے نہیں ہو سکتے، عدالت ایسی باتیں برداشت نہیں کرے گی، تبادلے کی وجوہات سے عدالت کو آگاہ کریں۔واضح رہے کہ اس سے قبل ڈی پی او پاک پتن کا بھی خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر کی شکایت پر راتوں رات تبادلہ کردیا گیا تھا اور چیف جسٹس نے اس معاملے کا نوٹس لیا تھا۔
گزشتہ روز وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کا فون اٹینڈ نہ کرنے پر آئی جی اسلام آباد جان محمد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ سینیٹر اعظم سواتی کا اپنے فارم ہاوٴس کے قریب خیمہ بستی میں مقیم افراد سے تنازع چل رہا تھا۔ اعظم سواتی ان خیموں میں مقیم افراد کو بے دخل کرنے کے لیے مبینہ طور پر پولیس پر دباؤ ڈال رہے تھے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا