اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے کابینہ ارکان کے سال میں تین سے زیادہ بیرونی دوروں پر پابندی لگا دی، فیصلے کا نفاذ فی الفور ہوگا۔تفصیلات کے مطابق حکومت کی کفایت شعاری مہم جاری ہے،وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے دوروں سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے کابینہ ارکان پر ایک سال میں 3 سے زائد بیرونی دوروں پر پابندی عائد کردی ہے۔فیصلے کا اطلاق وفاقی وزراء ، وزراء مملکت، مشیران، معاونین خصوصی پر بھی ہو گا جبکہ وزیر خارجہ اور وزیر تجارت پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
سرکاری دوروں میں کابینہ اراکین ذاتی سٹاف کو بھی ساتھ نہیں لے جا سکیں گے اور وفاقی وزراء متعلقہ سفارتخانوں کے اسٹاف کی خدمات حاصل کریں گے۔وزیر اعظم نے کابینہ ارکان کو بیرونی دوروں میں پی آئی اے پرواز استعمال کرنے کا پابند کر دیا ہے۔
فیصلے کے مطابق فرسٹ کلاس سفر کی اجازت صرف صدر پاکستان اور چیف جسٹس کو ہوگی، وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی بزنس کلاس میں سفرکریں گے۔وفاقی وزرا، وزیرمملکت، ایم این ایز اور سینیٹرز کو بھی بزنس کلاس میں سفر کی اجازت ہوگی جبکہ سروسزچیف بھی بزنس کلاس میں سفرکریں گے۔باقی تمام حکومتی شخصیات اکانومی کلاس میں سفر کرنے کے پابند ہوں گے، وزیراعظم عمران خان کے فیصلے کا نفاذ فی الفور ہوگا۔یاد رہے 20 اگست میں کو ہونے والے کابینہ کے پہلے اجلاس میں کابینہ کے تمام ارکان کوماضی میں دی گئی بیرون ملک علاج کی سہولت واپس لیلی گئی ہے ، اب کوئی بھی کابینہ کا رکن سرکاری خرچ پربیرون ملک علاج نہیں کراسکے گا۔سرکاری حکام کے غیرملکی دوروں کو محدود کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا سرکاری حکام سرکاری خرچ پر بیرون ملک دورے نہیں کریں گے۔
صدر و چیف جسٹس فرسٹ کلاس، وزیراعظم بزنس کلاس میں سفر کر سکیں گے۔صدر مملکت اور چیف جسٹس آف پاکستان فرسٹ کلاس جبکہ وزیراعظم بزنس کلاس میں سفر کرنے کے حقدار ہوں گے۔وفاقی وزراء اور بیوروکریٹس کے غیر ملکی دوروں کیلئے نئی ہدایات جاری کردی گئی ہیں.بیرونی دوروں کیلئے وزیر اعظم کی پیشگی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔اہم سرکاری عہدوں پر فائز شخصیات کی سفری مراعات بھی طے کی گئی ہیں، جبکہ بیرون ملک جانے والے سرکاری اداروں کا وفد 3 افسران پر مشتمل ہوگا۔
نئی ہدایات سے متعلق کابینہ ڈویڑن کے نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر اعظم سمیت چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، وزیر خارجہ، وفاقی وزراء ، وزراء برائے مملکت، چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی، سروسز چیفس، سینیٹرز اور ارکان اسمبلی بزنس کلاس میں سفر کے حقدار ہوں گے۔22 گریڈ کے تمام افسران، سیکرٹریز اور سفراء بھی بزنس کلاس میں سفر کریں گے۔اس کے علاوہ 20 گریڈ سے نیچے کے افسران اکانومی کلاس میں سفر کے حقدار ہوں گے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا