سکردو(نامہ نگار) بلتستان کے ابھرتا ہوا کوہ پیما فدا عشور سدپارہ نے براڈ پیک چوٹی جو اٹھ ہزار ستائیس میٹر بلند چوٹی گیارہ جولائی کو سر کیا گیا تھا ایک مہینہ گیارہ دن کے وقفے کے سات ہزار سے بلند ترین چوٹی اور دنیا کے سب سے مشہور چوٹی سپنگ ٹیک کو سر کیا اور ساتھ میں سپنگ ٹیک کی چوٹی پر پاکستان تحریک انصاف کا جھنڈا بھی لہرایا فدا عشور سدپارہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا تعلق گلگت بلتستان کے سب سے پسماندہ گاوں سدپارہ سے ہے مجھے شکوہ یہ ہے کی میں ملک کا نام روشن کررہا ہوں اس باوجود حکومت اور گلگت بلتستان انتظامیہ کی طرف سے کوئی تعاون حاصل نہیں اگر حکومت تعاون کرے تو ملک نام مذید روشن کرسکتا ہوں بلتستان کے کوہ پیما کو دیوار سے لگانا ہماری سمجھ سے بالاتر ہے اور کوہ پیمائی کا کیٹ تک ہم اپنے جیب سے خریدتے ہیں انہوں نے کہا ہم اپنے شوق کے خاطر کوہ پیما بنا ہے میں نے اٹھ ہزار سے بلند ترین چوٹی براڈ پیک کو سر کیا ساتھ میں سپنگ ٹیک کو بھی اور میرا خواب ہے ایند مائونٹ ایورسٹ اور کے ٹو کو بھی سر کرنا اور اس کیلئے میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کی میرے ساتھ تعاون کرے تاکہ ملک کا نام روشن کر سکون انہوں نے کہا پاکستان تحریک انصاف کا جھنڈا اس لئے لہرایا کی عمران خان نے ملک کو بچانے کیلئے اقدامات کررہا ہے اور ملک کو کرپٹ عناصر سے پاک کررہا ہے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا