اسلام آباد(تحریر نیوزنیٹ ورک) گزشتہ ایک سال سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو مسلسل وائرل ہوریا تھا جس میں آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کسی نجی ٹی وی پر خود کو وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی طرف سے برطانیہ میں اعزازی سفیر منتخب کرنے کا دعویٰ کیا جارہاہے لیکن حکومت گلگت بلتستان کی طرف سے اس معاملے پر کوئی تائید یا تردید کی خبر آج تک نہیں آیا۔ مذکورہ شخص نے اب سوشل سائٹ فیس بک کے ذریعے اپنے سوشل سرکل میں گلگت بلتستان کے لوگوں کو شامل کرنا شروع کیا ہے۔
گزشتہ دنوں گلگت بلتستان کے ایک قلم کار نے اُنکی جانب سے پوسٹ کئے گئے کچھ تصاویر پر سوال اُٹھا کہ وہ کس قانون کے تحت برطانیہ میں گلگت بلتستان کے سفیر ہیں تو اُنہوں نے جواب دیا کہ اُنکا گلگت بلتستان سے تعلق ہے نہ اس خطے سے کوئی مفادات وابسطہ ہیں اور وہ برطانیہ میں کنزرویٹیو پارٹی کے رکن پارلمینٹ ہونے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے اعزازی سفیر ہیں۔ اور انکا کام گلگت بلتستان میں سیاحت اور کلچر کی فروغ کیلئے کام کرنا ہے۔
مقامی قلم کار نے اُن سے سوال کیا کہ اس وقت گلگت بلتستان کے کئی اہم علاقوں میں اندرون ملک سے بھی سیاح کو جانے کی اجازت نہیں اور گلگت بلتستان کو لداخ اور کشمیر سے ملانے والے تمام لائن آف کنٹرول اور ان ایریا سے متصل تمام سیاحتی مقامات بند ہیں جبکہ لداخ اور کشمیر میں ایسا نہیں ہے۔ ایسے میں آپ کس طرح دنیا کو گلگت بلتستان میں سیاحت کی دعوت دیں گے اس کام کیلئے پہلے گلگت بلتستان کے اندر مواقع اور سہولیات پیدا کرنے ہونگے۔آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے بھی نہیں یہاں کی زمین حقائق کا بھی علم نہیں ایسے میں گلگت بلتستان کی سفارت کاری کیسے کریں گے۔ اس سوال پر موصوف ناراض ہوگیا اور اُنہوں نے اُن سے اس حوالے سوال کرنے والے تمام افراد کو سوشل سائٹ فیس بک سے بلاک کردیا۔
برطانیہ میں گلگت بلتستان کے سفیر ہونے کا دعویدار ہارون رشید دعویٰ کرچُکے ہیں کہ اُنکا گلگت بلتستان سے کوئی تعلق نہیں جبکہ کہا یہ جارہا ہے کہ اُنہوں نے گلگت بلتستان کے وادی استور میں شادی کی ہوئی ہے اور اُنکے کئی بچے ہیں جو باقاعدہ طور پر شنا زبان بھی بولتے ہیں۔ دوسری طرف حکومت گلگت بلتستان اس سے پہلے اس شخص سے اظہار لاتعلی کرچُکے ہیں لیکن ا س وقت وزیر کے اعلیٰ کے مشیر کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ میں گلگت بلتستان کی بہتری کیلئے کام کرتے ہیں۔

More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا