اسلام آباد(تحریر نیوزنیٹ ورک)سپریم کورٹ آف پاکستان نے گلگت بلتستان کی آئینی اور قانونی حیثیت اور اکہترسالہ محرومیوں کے حوالے سے معروف قوم پرست رہنماڈاکٹر عباس اور جی بی بار کونسل کی درخواست پر گلگت بلتستان کے 32 مختلف کیسسز میں7 رکنی لاجر بینچ تشکیل دیکر 15 اکتوبر تک کیلئے ملتوی کردیا۔
تفصیلات کے مطابق آج کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار صاحب کی سر براہی میں ہوئی تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے عدالتی معاون سینئر قانون دان اعتزاز احسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مشاورت کی تھی کہ یہ کیس لاجر بینچ سنے گا تاہم آفس یا میری غلطی کی وجہ سے کاز لسٹ میں اس طرح لگ گیا،چیف جسٹس ریمارکس دیئے کہ گلگت بلتستان کا معاملہ بہت اہم ہے، اس لئے لاجر بینچ تشکیل دے رہے ہیں. چیف جسٹس نے عدالتی معاون سںنئیر قانون دان خواجہ حارث کو کہا کہ اپ بتا دیں سارے لوگ موجود بھی ہیں تو یہ کیس کب سنا جائے. اگر کہتے ہیں تو اج ہی بریک کے بعد سن لیتے ہیں تاہم بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ فائل بک صرف تین ہیں تو سات رکنی بینچ کو سننے میں مشکلات ہوگی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پھر کیس کو دو دن کے لئے موخر کر دیتے ہیں۔
سماعت کے دوران گلگت بلتستان کے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنما کیس کی پیروی کرنے والے وکلاء سے اظہار ہمدردی کیلئے سپریم کورٹ پونچے اس موقع پر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کپٹن ریٹائرڈ محمد شفیع نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس کسی ایک فرد واحد یا جماعت کا نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے 22 لاکھ عوام کی ستر سالہ محرومیوں کا ہے اس لئے ہم سب کو ایک پیج پر آکر کیس کی پیروی کرنی پڑے گی۔
اس موقع پر گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کے رہنما محبوب علی عباس، گلاب شاہ، ایڈووکیٹ سمیع، ایڈووکیٹ محمد حفیظ، ایڈوکیٹ فدا حسین عباسی، ایڈوکیٹ اسد عباس ، گلگت بلتستان بار کونسل کے وکلاء سمیت بڑی تعداد میں گلگت بلتستان کی شخصیات سپریم کورٹ میں پہنچے تھے۔
سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان کے مقدمے کی سماعت کیلئے لارجر بنچ تشکیل۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا