گلگت(تحریر نیوز نیٹ ورک) گلگت بلتستان بار کونسل کے وائس چیرمین سنئیر ایڈوکیٹ جاوید احمد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ،مسئلہ کشمیر کے حتمی فیصلے تک عبوری آئینی انتظام کے تحت تمام آئینی اداروں پارلیمنٹ،این ایف سی، سی سی آئی , ارسا , اور سپریم کورٹ آف پاکستان جیسے تمام اداروں میں گلگت بلتستان کو ایک عبوری آئینی یونٹ جسے عبوری صوبہ یا عبوری خطہ گلگت بلتسان کے نام سے آئینی ترامیم کے ذریعہ آئین پاکستان میں شامل کرکے گلگت بلتستان کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی 72 سالہ محرومیوں کا ازالہ ہو اور ان کے بنیادی حقوق حق حکمرانی اور حق ملکیت سمیت وہ تمام حقوق حاصل ہو سکیں۔ اُنہوں نے اُمید ظاہر کیا ہے کہ انشاءاللہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار گلگت بلتستان بار کونسل کی آئینی حقوق کی پیٹیشن قبول کرکے گلگت بلتستان کے عوام کی اب تک کی تمام محرومیوں کا خاتمہ کریں گے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا