شگر (تحریر نیوز نیٹ ورک)محکمہ تعمیرات عامہ شگر تا سکردو شاہراہ میں غیر ضروری موڑ بڑھاکر ٹھیکیدار کو نوازنے سے باز رہے۔روڈ کو پی ون اور نقشے کے مطابق بنانے کے بجائے ٹھیکیدار کو نوازنے اور پیسے بچانے کی پالیسی ترک کرنا ہوگا۔شگر کے معروف ماہر قانون دان مہدی علی ایڈوکیٹ اور وزیروجاہت علی ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ شگر سے سکردو کی جانب زیر تعمیر نئی شاہراہ میں غیر ضروری موڑ کو ختم کرنے بجائے ٹھیکیدار اور محکمہ تعمیرات عامہ موڑ کو بڑھا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے نئی شاہراہ کی افادیت ختم ہورہے ہیں۔ یہ روڈ شگر کی عوام کیلئے رحمت کے بجائے زحمت بن رہے ہیں۔ جسے شگر کی عوام کبھی برداشت نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ روڈ کو صرف 22 فٹ چوڑا کیا جانا بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ حالانکہ زیر تعمیر پر کسی قسم کی معاوضہ ادا کرنا نہیں پڑرہا ہے اس کے باوجود سڑک محدود بنایا جانا لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ روڈ کی چوڑائی کو بڑھانے کیساتھ تمام موڑ کو ختم کرکے سیدھا کیا جائے بصورت دیگر ہم۔عوام۔کیداتھ سخت احتجاج پر مجبور ہونگے۔
دوسری طرف عمائدین اسکولی نےبھی چونگو تا اسکولی روڈ کی سائٹ تبدیل کرنے کی مخالفت کردی ،پی ون کے مطابق ہی سڑک کی تعمیر کا مطالبہ کردیا ،میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمائدین اسکولی نمبر دار اصغر علی ،زمان علی ،علی شکور ،حسین اکبر ،حسین علی ،حاجی علی ،وحاب ،رمضان اور دیگر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے چونگو سے اسکولی تک قوسڑک تعمیر کرنے کا فیصلہ کرکے اس کا سروے بھی کرچکی ہے لیکن بعض سیاسی شخصیات کی جانب سے اپنی مفاد کی خاطر پی سی ون تبدیل کرنے کا پلان تیار کرلیا ہے انہوں نے کہا کہ سیاسی شخصیات کی جانب سے روڈ کا پی سی ون تبدیل کرکے حوطو سے سینو کی جانب لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے اسکولی کے عوام کو کوئی ٖ فائدہ نہیں ہوگا البتہ سیاسی نمائدوں کا اس کا فائدہ ضرور ہوگا انہوں نے کہا کہ موجودہ سروے کے تحت اگر سڑک تعمیر کی جائے تو تین گاوں کو فائد ہ ہوگا دوسری جانب تعمیر کرنے سے ایک شخص کو فائدہ ہوگا لہذا محکمہ تعمیراٍت عامہ ایک شخص کو فائدہ پہنچانے کی خاطر روڈ کا نقشہ تبدیل کرنے سے اجتناب کرئے ورنہ لوگ احتجاج پر مجبور ہوں گے ۔
محکمہ تعمیرات عامہ شگر سکردو کی تعمیر میں غیر ضروری موڑ بڑھاکر ٹھیکیدار کو نوازنے سے باز رہیں۔معروف قانون دان کی دھمکی
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا